تہران ( پاک ترک نیوز) ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر نئی معاشی پابندیوں کے اعلان کو فوجی محاذ پر شکست کا بالواسطہ اعتراف قرار دے دیا۔
پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی نے کہا کہ اگر امریکا فوجی محاذ پر کامیاب ہوتا تو اسے اقتصادی جنگ کا سہارا لینے کی ضرورت پیش نہ آتی۔ ان کے مطابق ایران گزشتہ 47 برس سے امریکی پابندیوں اور اقتصادی دباؤ کا سامنا کر رہا ہے، اس لیے حالیہ اقدامات کوئی نئی بات نہیں۔
حسین محبی کا کہنا تھا کہ ایران نے دشمن کی جارحیت سے نمٹنے کے لیے مختلف منصوبے تیار کر رکھے ہیں اور اقتصادی جنگ بھی دشمن کی حکمت عملی کا ایک حصہ ہے۔ ان کے مطابق تہران پابندیوں کے باوجود دیگر ممالک کے ساتھ اقتصادی روابط برقرار رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور مستقبل قریب میں ان کوششوں کے نتائج سامنے آئیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا کی ایران پر آج سے معاشی پابندیاں
پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان نے دعویٰ کیا کہ جون 2025 کی 40 روزہ جنگ اور فروری کے آخر میں ہونے والی 12 روزہ جنگ کے دوران ایرانی مسلح افواج نے دشمن کو شدید نقصان پہنچایا۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگ سے قبل ایران نے خلیج فارس میں دشمن کے 30 سے 40 جنگی بحری جہازوں کو نشانہ بنایا، جبکہ امریکی افواج اب خلیج فارس سے تقریباً 400 کلومیٹر پیچھے ہٹ چکی ہیں۔
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ واشنگٹن نے آبنائے ہرمز پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر فوجی وسائل تعینات کیے تھے، تاہم اسے بالآخر ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔












