نیو یارک ( پاک ترک نیوز) نیویارک میں امریکی سائنسدانوں نے ایسا تجربہ کر دکھایا ہے جو مستقبل کی انتہائی محفوظ مواصلاتی دنیا کی بنیاد بن سکتا ہے، ماہرین نے پہلی بار کھلی فضا میں 13 میل یعنی 21 کلومیٹر دور تک کوانٹم معلومات منتقل کرنے کا کامیاب مظاہرہ کیا ہے۔
کوانٹم ٹیکنالوجی کی دنیا میں امریکا کی بڑی پیش رفت،سائنسدانوں نے تاروں اور فائبر آپٹک کیبل کے بغیر کھلی فضا میں کوانٹم سگنلز منتقل کر دیے۔نیویارک میں بروک ہیون نیشنل لیبارٹری اور اسٹونی بروک یونیورسٹی کے محققین نے 21 کلومیٹر کے فاصلے پر انتہائی حساس کوانٹم معلومات روشنی کے ذریعے منتقل کیں۔
تجربے کے دوران صرف چند فوٹونز پر مشتمل کوانٹم حالتیں لیزر کے ذریعے پیدا کی گئیں،یہ روشنی فضا میں سفر کرتی ہوئی اسٹونی بروک سے بروک ہیون تک پہنچی، جہاں انتہائی تیز رفتار کیمرے نے انہیں کامیابی سے وصول کیا۔
لیکن اصل چیلنج صرف فاصلے کا نہیں تھا۔ فضائی انتشار اور ماحولیاتی ہلچل سے روشنی کا راستہ تبدیل ہو سکتا تھا اور کوانٹم معلومات متاثر ہونے کا خدشہ تھا،اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے سائنسدانوں نے فلکیاتی دوربینوں میں استعمال ہونے والی ایڈاپٹو آپٹکس ٹیکنالوجی سے مدد لی۔اس کے بعد سائنسدانوں نے اس سے بھی مشکل تجربہ کیا،
رات کے وقت Entangled Photons یعنی باہم جڑے ہوئے فوٹونز کو کھلی فضا میں منتقل کیا گیا اور انہیں کامیابی سے وصول کرکے ناپا گیا۔ماہرین کے مطابق یہ ٹیکنالوجی مستقبل میں انتہائی محفوظ مواصلات، کوانٹم سینسنگ اور کوانٹم کمپیوٹرز کو آپس میں جوڑنے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔اس پیش رفت کی خاص بات یہ ہے کہ کوانٹم نیٹ ورک اب صرف زیرزمین فائبر کیبلز تک محدود نہیں رہے گا،بلکہ مستقبل میں فضا کے ذریعے کوانٹم معلومات کی ترسیل بھی ممکن ہوسکے گی۔امریکی سائنسدان اب اس نیٹ ورک کو مزید وسعت دینے کی تیاری کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: انگلش فاسٹ بولر برائیڈن کارس کیخلاف نائٹ کلب واقعے کی تحقیقات
ییل یونیورسٹی میں تیسرا فری اسپیس آپٹیکل مرکز بھی تیار ہوچکا ہے، جس کے فعال ہونے کے بعد تقریباً 48 کلومیٹر فاصلے پر کوانٹم رابطے کا تجربہ کیا جاسکے گا۔اور سائنسدانوں کی نظریں اس سے بھی آگے ہیں۔۔۔مستقبل میں یہی ٹیکنالوجی زمین سے سیٹلائٹس تک کوانٹم معلومات پہنچانے کے لیے استعمال ہوسکتی ہے۔یعنی آج نیویارک کی فضا میں 21 کلومیٹر کا کوانٹم رابطہ۔۔۔کل دنیا بھر میں محفوظ کوانٹم کمیونیکیشن کے عالمی نیٹ ورک کی بنیاد بن سکتا ہے۔












