اسلام آباد ( پاک ترک نیوز) راولپنڈی میں حنا جاوید قتل کیس کی تحقیقات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں مرکزی ملزم فیصل اصغر کے ماضی میں مختلف جامعات میں دیے گئے لیکچرز کی ویڈیوز سامنے آگئی ہیں۔فیصل اصغر مختلف یونیورسٹیوں میں کارپوریٹ کمیونیکیشن پڑھاتا رہا ہے اور اس کے یوٹیوب چینل پر موجود لیکچرز کی ویڈیوز میں وہ شوہروں کے ہاتھوں بیویوں کے قتل کی مثالیں بھی دیتا دکھائی دیتا ہے۔
ایک ویڈیو میں فیصل اصغر طالبہ سے سوال کرتا ہے کہ اگر شوہر بیوی کو گولی مار دے تو اس کی کیا وجہ ہوسکتی ہے؟ طالبہ جواب دیتی ہے کہ ایسا شوہر بہت برا آدمی ہوگا۔فیصل اصغر مزید سوال کرتا ہے کہ اگر بیوی کا کسی سے تعلق ہو اور وہ دولت کے لیے شوہر کو قتل کرنا چاہے تو کیا ہوگا؟ طالبہ جواب دیتی ہے کہ ضروری نہیں کہ بیوی شوہر کو قتل کرنا چاہتی ہو۔
مرکزی ملزم کے ماضی کے یہ لیکچرز قتل کیس کی تفتیش کے تناظر میں کئی سوالات اٹھا رہے ہیں، تاہم ان ویڈیوز کا کیس کے مبینہ قتل سے براہ راست تعلق ثابت ہونا ابھی باقی ہے۔دوسری جانب پولیس تفتیش میں گھریلو ملازم ذیشان کے بیانات بھی اہم قرار دیے جارہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ذیشان نے دوران تفتیش تین مختلف بیانات دیے۔پہلے بیان میں اس نے فیصل اصغر کے ساتھ مل کر حنا جاوید کو منصوبہ بندی سے قتل کرنے کا دعویٰ کیا، دوسرے بیان میں قتل اکیلے کرنے کا موقف اختیار کیا، جبکہ تیسرے بیان میں بتایا کہ میاں بیوی کے جھگڑے کے دوران اسے بلایا گیا اور اس نے فیصل اصغر کی مدد کی۔
پولیس تفتیش کے مطابق جھگڑے کے دوران حنا جاوید نے فرار ہونے کی کوشش کی اور مزاحمت کی، جس پر مبینہ طور پر دونوں نے اسے پکڑا اور گلا دبایا۔تفتیش میں یہ بھی سامنے آیا کہ بعد میں واقعے کو خودکشی یا نامعلوم افراد کی کارروائی ظاہر کرنے کے لیے لاش کو باتھ روم میں شاور کے ساتھ تار سے لٹکانے کا منصوبہ بنایا گیا۔پولیس ذیشان کے اس مؤقف سمیت مختلف پہلوؤں کی تحقیقات کررہی ہے کہ آیا اس نے مبینہ طور پر گھر سے رقم یا دیگر اشیا چوری کی تھیں اور کہیں چوری پکڑے جانے کے خدشے پر اس نے حنا جاوید کو قتل تو نہیں کیا۔
یہ بھی پڑھیں: بانی پی ٹی آئی کے بعد اڈیالہ جیل کے 3 قیدیوں کا علاج کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع
تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ ایک شخص کے لیے قتل کے بعد لاش کو اکیلے باتھ روم لے جاکر اس طرح لٹکانا مشکل دکھائی دیتا ہے، اس لیے دیگر پہلوؤں کو بھی مدنظر رکھا جارہا ہے۔واقعے کے بعد پولیس کو حنا جاوید کے سسر کی جانب سے گھر میں چور داخل ہونے کی اطلاع دی گئی تھی، تاہم پولیس کو نامعلوم چوروں کی موجودگی کے حوالے سے شواہد نہیں ملے۔حنا جاوید کے بھائی فہد کی مدعیت میں درج مقدمے میں خاوند فیصل اصغر امام، سسر اصغر امام اور گھریلو ملازم ذیشان کو نامزد کیا گیا ہے۔ فیصل اصغر اور ذیشان تین روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں ہیں۔
سی پی او راولپنڈی حسن مشتاق سکھیرا نے ایس ایس پی انویسٹی گیشن سیف اللہ کی سربراہی میں اعلیٰ سطحی تفتیشی ٹیم تشکیل دے رکھی ہے، جو کیس کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے رہی ہے۔












