تہران ( پاک ترک نیوز) ایرانی وزارت خارجہ نے نئی امریکی پابندیوں کو ملکی حدود سے تجاوز اور عالمی تجارت میں مداخلت قرار دیتے ہوئے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے کہا کہ واشنگٹن اپنی مرضی دوسرے ممالک پر مسلط کرنا چاہتا ہے، کسی ریاست کو بینکوں اور کمپنیوں پر دباؤ ڈالنے کا اختیار حاصل نہیں۔
اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ بینکوں اور کمپنیوں کو جائز تجارتی لین دین سے روکنا قابل قبول نہیں، امریکی اقدامات صرف اقتصادی جنگ تک محدود نہیں بلکہ عالمی تجارت میں براہِ راست مداخلت کے مترادف ہیں۔
انہوں نے کہا کہ نئی امریکی پابندیاں بین الاقوامی قوانین اور ریاستی خودمختاری کی خلاف ورزی ہیں، امریکا ایران کے خلاف غیر قانونی معاشی جنگ جاری رکھے ہوئے ہے اور خودمختار ریاستوں پر اپنی بالادستی قائم کرنا چاہتا ہے۔
ایرانی ترجمان نے کہا کہ امریکا کسی آزاد ملک کو کسی دوسرے ملک کے ساتھ قانونی تجارت ختم کرنے پر مجبور نہیں کرسکتا، اس طرح کے اقدامات اقوام متحدہ کے چارٹر کی بھی خلاف ورزی ہیں۔ کسی خودمختار ریاست کو اپنی جائز پالیسی تبدیل کرنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا کی عالمی فوجداری عدالت پر پابندیاں کھلا حملہ قرار
اسماعیل بقائی کے مطابق امریکی دباؤ قبول کرنے کا مطلب یہ ہوگا کہ ریاستی خودمختاری ایک غیر ملکی اجازت نامے کی محتاج بن جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی پالیسیاں عالمی نظام اور اقوام متحدہ کے بنیادی ڈھانچے کو کمزور کر رہی ہیں اور دنیا کو دوبارہ مکمل نوآبادیاتی نظام کی طرف دھکیل سکتی ہیں۔












