واشنگٹن ( پاک ترک نیوز) امریکی محکمہ خارجہ نے ڈونلڈ ٹرمپ کےاقتدارمیں واپس آنے کے بعد سے اب تک 175,000 سے زیادہ ویزے منسوخ کر دیے ہیں۔ویزوں کی منسوخی کی یہ رفتار جو بائیڈن کے وائٹ ہاؤس میں آخری سال کے مقابلے میں چار گنا زیادہ ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کی طرف سے جاری کردہ نئے اعداد و شمار کے مطابق ویزوں کی تنسیخ میں ان غیر ملکی شہریوں کو نشانہ بنایا گیا ہےجنہوں نے مبینہ طور پر اپنے ویزوں کی شرائط کو توڑا، جرائم کا ارتکاب کیا، امریکیوں شہریوں پر تشدد کیا، امریکی شہریوں کو دھوکہ دیا، امیگریشن سسٹم کا غلط استعمال کیا یا قومی سلامتی کو خطرے میں ڈالا۔ ویزہ منسوخی کا سامنا کرنے والے بہت سے لوگوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھآنکھ مچولی بھی کی۔اسکے علاوہ محکمہ خارجہ کی رپورٹ کے مطابق، حملہ، نشے میں ڈرائیونگ، چوری اور منشیات کے جرائم کے ساتھ ساتھ لاپرواہی سے ڈرائیونگ، جنسی حملہ، بچوں کے ساتھ بدسلوکی اور دھوکہ دہی ویزہ منسوخی کی اہم وجوہات ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: وفاقی کابینہ نے قومی ہاؤسنگ پالیسی 2026 کی منظوری دے دی
جوبائیڈن کے دور میں محکمہ خارجہ نے 2024 میں تقریباً 40,000 ویزے منسوخ کیے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے صرف 2025 میں ایک لاکھ سے زائد ویزے منسوخ کیے، اور اس سال منسوخی کی ماہانہ رفتار میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ یہ تعداد 2025 میں تقریباً 8,000 ماہانہ سے بڑھ کر 2026 میں 10,000 ماہانہ سے تجاوز کر گئی ہے۔ محکمے نے یہ وضاحت نہیں کی ہے کہ 175,000 کی یہ مجموعی تعداد مختلف زمروں میں کس طرح تقسیم ہوتی ہے، جس کی وجہ سے یہ واضح نہیں ہو سکا کہ کتنی منسوخیاں سنگین جرائم کے باعث ہوئیں اور کتنی ویزے کی مدت ختم ہونے کے بعد بھی قیام (اوور اسٹے) جیسی معمولی خلاف ورزیوں کی وجہ سے عمل میں آئیں۔












