برف سے ڈھکے گرین لینڈ میں اچانک امریکی ایف 16 لڑاکا طیارے پہنچ گئے، وہ بھی الاسکا سے کینیڈا کے راستے! آخر امریکا نے اپنے جنگی طیاروں کو اتنی دور اور انتہائی سرد خطے میں کیوں پہنچایا؟ معاملہ صرف ایک معمول کی فوجی مشق کا نہیں، بلکہ ایسی جنگی صلاحیت آزمانے کا ہے جس میں محدود سہولیات کے باوجود طیاروں کو فوری طور پر آپریشنل کرنا شامل ہے۔امریکی فضائیہ کے ایف 16 فائٹنگ فالکنز نے الاسکا کے ایلسن ایئر فورس بیس سے پرواز کی، کینیڈا کے راستے گوز بے پہنچے اور پھر گرین لینڈ منتقل ہوگئے۔یہ کارروائی آرکٹک وینگارڈ 26-4.2 کے نام سے جاری مشترکہ فوجی آپریشن کا حصہ ہے، جس میں امریکا کے ساتھ کینیڈا، ڈنمارک اور نیٹو کی افواج بھی شریک ہیں۔
لیکن اس مشق کا سب سے اہم پہلو کیا ہے؟امریکی اور اتحادی افواج یہ جانچ رہی ہیں کہ انتہائی سرد موسم، دور دراز علاقوں اور محدود انفراسٹرکچر کے باوجود جنگی طیاروں کو کتنی تیزی سے تعینات کرکے آپریشن کیا جاسکتا ہے۔16 ستمبر کو امریکی کے سی ون تھرٹی فائیو ٹینکر طیارے نے گرین لینڈ کے اوپر ایف 16 طیاروں کو دورانِ پرواز ایندھن بھی فراہم کیا۔کنجرلوسواک میں امریکی ایف 16 طیاروں کے ساتھ ڈنمارک کے ایف 35 اور کینیڈا کے سی ایف 18 بھی موجود رہے۔صرف یہی نہیں، امریکی ایف 35 اے طیارے بھی گرین لینڈ کے پیتوفک اسپیس بیس سے اسی مشن کا حصہ بنے۔نوراڈ اور یو ایس نارتھ کَام آرکٹک میں مشترکہ آپریشنز، تربیت اور فوجی مشقوں کو مربوط کرنے کے لیے ’نورڈک برج‘ تصور پر بھی کام کر رہے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ امریکی فضائیہ نے گرین لینڈ پہنچنے والے ایف 16 طیاروں اور اہلکاروں کی تعداد ظاہر نہیں کی۔آپریشن 26 ستمبر کو مکمل ہونا ہے، لیکن اس مشق نے یہ ضرور دکھا دیا ہے کہ امریکا اور اس کے اتحادی انتہائی دور اور سخت ترین ماحول میں اپنی فضائی طاقت کو تیزی سے منتقل کرنے کی صلاحیت کو مسلسل آزما رہے ہیں











