لاہور( پاک ترک نیوز) دنیا کی دو بڑی طاقتیں ایک بار پھر ایک میز پر جمع ہو گئیں ۔ چینی صدر شی جن پنگ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دعوت پر تین روزہ دورے پر امریکا پہنچ گئے ہیں۔ شاندار استقبال، توپوں کی سلامی اور فضائی مظاہرے نے اس دورے کی اہمیت مزید بڑھا دی ہے۔ مگر اصل سوال یہ ہے کہ کیا اس ملاقات سے امریکا اور چین کے درمیان جاری کشیدگی کم ہوگی؟
ایک طرف شاندار استقبال، دوسری طرف برسوں سے جاری تجارتی اور تزویراتی کشیدگی۔۔۔شی جن پنگ کا امریکا پہنچنا صرف ایک سرکاری دورہ نہیں بلکہ دنیا کی دو بڑی طاقتوں کے درمیان تعلقات کے نئے مرحلے کی علامت بھی سمجھا جا رہا ہے۔ریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چینی صدر کا میری لینڈ کے جوائنٹ بیس اینڈریوز پر استقبال کیا۔ دونوں ملکوں کے قومی ترانے بجائے گئے، توپوں کی سلامی دی گئی اور طیاروں نے فضائی مظاہرہ بھی کیاامریکا اور چین کے درمیان تجارت، جدید ٹیکنالوجی، اہم معدنیات اور تائیوان سمیت کئی معاملات پر اختلافات موجود ہیں۔ محصولات کی جنگ نے دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید پیچیدہ بنایا ہے۔
اب نظریں اس ملاقات پر ہیں کہ کیا دونوں رہنما اختلافات کم کرنے کے لیے کوئی عملی راستہ نکال پاتے ہیں؟تجارت اس ملاقات کا اہم ترین موضوع ہوسکتی ہے۔ امریکا چین سے تجارتی معاملات میں مزید پیش رفت چاہتا ہے، جبکہ چین امریکی پابندیوں اور اہم معدنیات کی برآمد سے متعلق اقدامات پر اپنے تحفظات رکھتا ہے۔مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی بھی دونوں ممالک کے درمیان مقابلے کا بڑا میدان ہے۔ واشنگٹن جدید ٹیکنالوجی تک چین کی رسائی محدود کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے، جبکہ بیجنگ اپنی ٹیکنالوجی کی خودمختاری اور عالمی رسائی بڑھانا چاہتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا،ایران مذاکرات،آبنائے ہرمز کھلنے کا امکان ،تیل سستا ہونے لگا
چین تائیوان کو اپنا حصہ قرار دیتا ہے، جبکہ امریکا تائیوان کے ساتھ تعلقات اور دفاعی تعاون برقرار رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس معاملے پر دونوں طاقتوں کے درمیان بنیادی اختلاف اب بھی برقرار ہے۔استقبالیہ اور اعلیٰ سطحی رابطے کشیدگی کم کرنے کی کوشش کا اشارہ ضرور ہیں، لیکن دونوں ممالک کے بنیادی اختلافات ختم نہیں ہوئے۔شی جن پنگ اور ٹرمپ کی ملاقات میں تجارتی جنگ بندی کو آگے بڑھانے، محصولات اور اہم معدنیات، ٹیکنالوجی، تائیوان اور عالمی معاملات پر بات چیت متوقع ہے۔شاندار استقبال نے سفارتی ماحول ضرور نرم کیا ہے، لیکن اصل نتیجہ مذاکرات کی میز پر طے ہوگا۔
دنیا کی نظریں واشنگٹن پر ہیں۔۔۔ کیا ٹرمپ اور شی جن پنگ اختلافات کم کرنے میں کامیاب ہوں گے، یا امریکا اور چین کی مسابقت ایک نئے مرحلے میں داخل ہوگی؟











