اسلام آباد ( پاک ترک نیوز) پاکستان میں طویل مدتی منصوبہ بندی اور مستقبل کے ممکنہ حالات کا جائزہ لینے کا نظام اب تک حکومتی پالیسی سازی کا مستقل حصہ نہیں بن سکا۔
تجزیے کے مطابق پاکستان میں مستقبل کی منصوبہ بندی کے لیے مختلف اوقات میں ادارے، منصوبے اور مطالعات تو سامنے آتے رہے، تاہم انہیں مستقل حکومتی نظام کا حصہ نہیں بنایا جاسکا۔
پاکستان میں حکومتی ادارے طویل مدتی منصوبہ بندی کے بجائے فوری بحرانوں سے نمٹنے پر زیادہ توجہ دیتے ہیں۔ معاشی مشکلات، آئی ایم ایف پروگرامز، سکیورٹی چیلنجز، سیلاب اور حکومتوں کی مسلسل تبدیلی نے بھی طویل مدتی پالیسی سازی کو متاثر کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق بیوروکریسی میں بھی مستقبل کے مختلف ممکنہ منظرناموں پر غور کرنے کے بجائے ایک ہی حتمی منصوبہ پیش کرنے کا رجحان ہے۔ ایسے نظام میں غیر یقینی صورتحال کو تسلیم کرنا کمزوری سمجھا جاتا ہے، جس کے باعث مستقبل کے مختلف امکانات کا مؤثر جائزہ نہیں لیا جاتا۔
18ویں ترمیم کے بعد صوبوں کو منصوبہ بندی کے حوالے سے مزید اختیارات ملے، تاہم صوبائی سطح پر بھی مستقبل بینی کے لیے مطلوبہ ڈیٹا، تربیت یافتہ ماہرین، مستقل بجٹ اور ادارہ جاتی تسلسل موجود نہیں۔
تجزیے میں بتایا گیا ہے کہ حکومتوں کی تبدیلی کے ساتھ ادارہ جاتی یادداشت بھی متاثر ہوتی ہے۔ طویل مدتی منصوبے اکثر کسی مخصوص شخصیت یا حکومتی دور سے منسلک ہوتے ہیں اور متعلقہ شخصیت کے عہدے سے ہٹنے کے بعد منصوبہ بھی غیر فعال ہوجاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وفاقی کابینہ نے قومی ہاؤسنگ پالیسی 2026 کی منظوری دے دی
دنیا کے کئی ممالک میں مستقبل بینی کو حکومتی نظام کا مستقل حصہ بنایا گیا ہے۔ سنگاپور میں سینٹر فار اسٹریٹجک فیوچرز وزیرِاعظم کے دفتر کے تحت کام کرتا ہے، فن لینڈ کی پارلیمنٹ میں مستقبل کے امور کے لیے مستقل کمیٹی موجود ہے، جبکہ برطانیہ، جنوبی کوریا، متحدہ عرب امارات، ویلز، چین اور امریکا میں بھی طویل مدتی منصوبہ بندی اور مستقبل کے ممکنہ حالات کا جائزہ لینے کے لیے مستقل ادارہ جاتی نظام موجود ہے۔
ماہرین کے مطابق پاکستان میں بھی مستقبل بینی کے لیے ایک مستقل، بااختیار اور قانونی تحفظ رکھنے والا ادارہ قائم کرنے کی ضرورت ہے، جو مختلف ممکنہ معاشی، ماحولیاتی، سکیورٹی اور سماجی حالات کے منظرنامے تیار کرے اور ان نتائج کو حکومتی پالیسی اور بجٹ سازی کا لازمی حصہ بنائے۔











