اسلام آباد ( پاک ترک نیوز) پاکستان اور ایران کے درمیان گیس پائپ لائن منصوبے پر طویل عرصے سے جاری تعطل ختم کرنے کے لیے حکومت نے اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دے دی۔وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے سینیٹ کو بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے کمیٹی قائم کی ہے جو منصوبے کے قانونی، مالی اور توانائی سے متعلق پہلوؤں کا جائزہ لے گی اور ملکی مفاد میں آئندہ کا لائحہ عمل تجویز کرے گی۔
سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس پر وزیر پٹرولیم نے بتایا کہ پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ دو دہائیوں سے تاخیر کا شکار ہے، جبکہ ایران اپنی حدود میں پائپ لائن کا بڑا حصہ مکمل کرکے پاکستانی سرحد تک گیس پہنچا چکا ہے۔انہوں نے بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان 2009 میں ہونے والے گیس سیلز پرچیز معاہدے کے تحت پاکستان کو اپنی حدود میں 781 کلومیٹر پائپ لائن دسمبر 2014 تک مکمل کرنا تھی، تاہم امریکی پابندیوں اور مالی وسائل کی کمی کے باعث پاکستان اپنے حصے پر کام شروع نہ کرسکا۔
وزیر پٹرولیم کے مطابق منصوبے سے متعلق تنازع پیرس میں بین الاقوامی ثالثی ٹریبونل کے سامنے زیرِ سماعت ہے۔ ایران کی جانب سے 2023 میں پائپ لائن منصوبے میں تاخیر پر ہرجانے کا باضابطہ نوٹس بھی دیا گیا تھا۔علی پرویز ملک نے کہا کہ کمیٹی پاکستان کو درپیش ممکنہ مالی ذمہ داری، قانونی کارروائی کے اثرات اور مستقبل میں ملک کی توانائی کی ضروریات کا جائزہ لے گی۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا اور ایران میں نئی جنگ بندی پر اتفاق ،روسی میڈیا کا دعویٰ
انہوں نے کہا کہ حکومت مزید قانونی پیچیدگیوں سے بچنے کے لیے ایران کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے قابلِ قبول حل تلاش کرنا چاہتی ہے۔وزیر پٹرولیم نے ایران کو برادر ملک قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کی قیادت باہمی رضامندی سے دوستانہ تصفیے کے لیے رابطے میں ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ایران نے ساؤتھ پارس گیس فیلڈ سے پاکستانی سرحد کے قریب ایک بڑے شہر تک گیس پہنچانے کے لیے اپنی جانب نمایاں کام مکمل کرلیا ہے۔












