
از: سہیل شہریار
قطر، ترکیہ، سعودی عرب اور چین کی مسلسل سفارتی کوششوں کے باوجود پاکستان اور افغانستان کے درمیان جنگ بندی کی صورتحال تاحال غیر مستحکم ہے۔ ان چاروں ممالک نے اہم مواقع پر کشیدگی کو کم کرنے میں مدد تو کی ہے لیکن وہ اب تک اسلام آباد اور کابل کے درمیان سکیورٹی سے متعلق بنیادی اختلافات کو حل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔
اکتوبر 2025 میں سرحد پر ہونے والی شدید جھڑپوں کے بعد سفارتی عمل میں تیزی آئی۔تب ترکیہ اور قطر نے دوحہ میں جنگ بندی کروانے میں سہولت کاری کی۔ بعد ازاں استنبول میں ہونے والے مذاکرات میں اس معاہدے کو مضبوط بنانے کے طریقوں پر غور کیا گیا۔ جن میں نگرانی اور تصدیق کا ممکنہ نظام بھی شامل تھا۔تاہم، دونوں فریقین کے درمیان اس بات پر اختلاف برقرار ہے کہ جنگ بندی کی خلاف ورزی کسے قرار دیا جائے۔ پاکستان نے تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے حملوں پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ جن کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ یہ افغان سرزمین سے کیے جاتے ہیں۔ اور اس مؤقف کی تائید اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی کمیٹی نے بھی کر دی ہے جس کی حال ہی میںشائع ہونے والی رپورٹ میں کالعدم ٹی ٹی پی سمیت متعدد دہشت گرد تنظیموں اور گروپوں کو پناہ اور سرپرستی فراہم کرنے کی تصدیق کرتے ہوئےافغانستان کو علاقائی اور بین الاقوامی امن کے لئے بدستور اایک خطرہ قرار دیا ہے۔
دوسری جانب بھارت کی پروردہ نام نہاد افغان اسلامی امارات نے ان الزامات کو مسترد کر دیا ہے کہ وہ ٹی ٹی پی سمیت کسی بھی گروپ کو محفوظ پناہ گاہ فراہم کرتی ہے۔ اور اس کا موقف ہے کہ پاکستان کو اپنے سکیورٹی چیلنجز خود حل کرنے چاہئیں۔حالانکہ استنبول مزاکرات سے قبل افغان طالبان نے ایک خطیر رقم کے عوض ٹی ٹی پی کوپاکستانی سرحد سے دورکسی مقام پر منتقل کرنے کی پیشکش کی جسے قبول کرتے ہوئے پاکستان نے اپنے مؤقف کا اعادہ کیا کہ قابل تصدیق اقدامات کی یقین دہانی کروائی جائے۔ جس پر بات آگے نہ بڑھ سکی۔ بعد ازاں کالعدم ٹی ٹی پی کو اپنے زیرسرپرستی تسلیم کرتے ہوئے استنبول مزاکرات کے دوران پاکستان کو دہشتگردوں سے براہ راست مزاکرت کرنے کی پیشکش کی گئی جسے پاکستان نے یکسر مسترد کردیا ۔
پاکستان افغان سرزمین سے عسکریت پسندانہ سرگرمیوں کو روکنے کے لیے قابلِ تصدیق اقدامات کا خواہاں ہے۔ جبکہ طالبان افغانستان کے اندر پاکستانی فوجی کارروائیوں اور اس کے نتیجے میںملکی خودمختاری پر پڑنے والے اثرات پر تشویش میں مبتلا ہیں۔اسی ضمن میںافغانستان اور بھارت کے تعلقات نے اس تنازع میں ایک اور پہلو کا اضافہ کیا ہے۔ بھارت نے کابل کے ساتھ اپنے روابط بڑھائے ہیں۔بھارت ماضی میں بھی افغانستان میں اپنی پراکسیز کی مدد سے پاکستان میں دہشتگردی کی مزموم وارداتوں میں ملوث رہا ہے۔اور اب کی بار ا حسان فرامو ش طالبان ان مذموم کاروائیوں کی سرپرستی کرتے نظر آتے ہیں۔ جو یقیناً اسلام آباد کے سکیورٹی خدشات میں اضافے کا باعث بن رہےہیں۔
یہ حقیقت ہے کہ پاک۔ افغان تعلقات کو معمول پر لانےکے لئےچار وں مزکورہ ثالثوں نے اہم سفارتی سہولت کاری کی ہے۔ مگریہ بھی سچ ہے کہ ان ثالثوں کی کاوشیں یکجا اور ایک مشترکہ فریم ورک کے تحت نہیں کی گئیں۔چنانچہ قطر اور ترکیہ کے بعد رواں سال کی ابتدا میں پاک ۔افغان سرحد پر کشیدگی بڑھنےکے بعد چین نے ارومچی میں پاکستانی اور افغان نمائندوں کی میزبانی کی۔ جس سے دونوں فریقین کو مذاکرات کی طرف واپس لانے میں مدد ملی۔اور ایک بار پھرمسئلے کے دیر پا حل کی بجائے معاملہ تناؤ میں وقتی کمی تک ہی محدود رہا۔کیونکہ طالبان نے ایک مرتبہ پھر افغان سرزمین سے پاکستان میں ہونے والی دہشتگری کی روک تھام کے قابل تصدیق اقدامات اٹھانے سے انکار کر دیا۔
دونوں ہمسایہ ملکوں کے مابین موجودہ تناؤ کی صورتحال میںپائیدار امن کے قیام کے لئے چین مجموعی عمل کو مربوط کر رہا ہے تو قطر سفارتی ر ابطوںکو فروغ دینے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ جبکہ ترکیہ تکنیکی مذاکرات میں مدد اور سعودی عرب اقتصادی مراعات فراہم کررہا ہے۔ مگر اس سب کے باوجود اب بات اس وقت تک نہیں بنے گی جب تک افغان طالبا ن سرحد پار دہشتگردی روکنے کے لئے قابل تصدیق اقدامات اٹھاتے ہوئے دہشتگردوں کی نقل و حرکت پر پابندیاں، انکی مالی امداد کی بندش اور پاکستان کے ساتھ دہشتگردی روکنے کے لئے انٹیلی جنس تعاون کو یقینی نہیں بناتے۔
اس فریم ورک کی کامیابی کے لئے ناگزیر ہوگا کہ جہاں افغان عبوری سیٹ اپ اپنے وعدوں کی پاسداری کرے ساتھ ہی پاکستان بھی تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئےافغانستان کے اندر یک طرفہ فوجی کاروائیوں پر انحصار کو کم کرے۔یہ بھی ناگزیر ہوگا کہ دہشتگردوں کی سرپرستی ترک کرنے اور دہشتگردی کی روک تھام کے لئے افغانیوں کے اقدامات کی تصدیق کا آزادانہ طریقہ کار وضع کیا جائےجو دونوں فریقوں کے لئے قابل قبول ہو۔اور اس سلسلے میں چین ہی وہ ملک ہے جوایک مربوط فریم ورک کی تشکیل میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔











