اسلام آباد ( پاک ترک نیوز) پاکستان میں ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کی جانب ایک اور اہم پیش رفت۔۔۔ حکومت نے رئیل اسٹیٹ سمیت مختلف سرمایہ کاری کے شعبوں میں ڈیجیٹل اثاثوں اور ٹوکنائزیشن کے استعمال پر غور شروع کردیا۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب سے چیئرمین پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی ڈاکٹر سہیل منیر کی ملاقات ہوئی، جس میں ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن، ڈیجیٹل فنانس اور ٹیکنالوجی کے فروغ سمیت اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات میں ڈیجیٹل اثاثوں اور ٹوکنائزیشن کے لیے مناسب قانونی اور ریگولیٹری فریم ورک تشکیل دینے پر زور دیا گیا۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور نئے کاروباری ماڈلز کے ساتھ موجودہ قوانین میں بھی بہتری لانا ضروری ہے۔
تجارت اور مالیاتی سرگرمیوں میں ڈیجیٹل پراسیسز کے فروغ کے لیے سازگار فریم ورک تشکیل دینے پر بھی گفتگو کی گئی۔
اجلاس میں ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے عوام اور کاروباری افراد کی فنانس تک رسائی بہتر بنانے کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔
صارفین کی آن بورڈنگ کا عمل آسان بنانے، مالیاتی ڈیٹا شیئرنگ بہتر کرنے اور بینکوں و کیپٹل مارکیٹس کے درمیان ڈیٹا کے انضمام پر بھی غور کیا گیا۔
حکومت ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے کیپٹل مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کی شرکت بڑھانے کی بھی خواہاں ہے۔
وزیر خزانہ کے مطابق بینکنگ اور کیپٹل مارکیٹ کے نظام کا بہتر انضمام سرمایہ کاری کے مواقع میں اضافہ کرسکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں طویل مدتی منصوبہ بندی کا فقدان، حکومتی نظام بحرانوں تک محدود
ملاقات میں حکومتی اداروں کے درمیان ڈیٹا کے بہتر استعمال اور باہمی رابطے کے فروغ پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
مصنوعی ذہانت یعنی آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے ذریعے پالیسی سازی اور فیصلہ سازی کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔
حکومت نے پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کو وسعت دینے کے لیے مضبوط ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور مؤثر مالیاتی نظام کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا ہے کہ پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کے لیے متعلقہ اداروں کے درمیان مسلسل تعاون ضروری ہے۔











