اسلام آباد(پاک ترک نیوز )حکومت نے تعمیراتی صنعت کو فروغ دینے، سرمایہ کاری بڑھانے اور کاروباری و انتظامی رکاوٹیں دور کرنے کے لیے جامع پیکیج تیار کرنے پر غور شروع کردیا۔معاملے پر وزیر اقتصادی امور احد چیمہ کی زیر صدارت اجلاس ہوا، جس میں وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی سمیت اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
مجوزہ پیکیج میں کنسٹرکشن انڈسٹری ڈویلپمنٹ بورڈ کے قیام، خصوصی کنسٹرکشن ڈویلپمنٹ بینک کے امکانات کا جائزہ، درآمدات و برآمدات کی پالیسیوں کو آسان بنانے اور تعمیراتی شعبے کے لیے ٹیکس اصلاحات شامل ہیں۔
اعلامیے کے مطابق مجوزہ کنسٹرکشن انڈسٹری ڈویلپمنٹ بورڈ تعمیراتی شعبے کی ترقی کے ساتھ ریگولیٹری ذمہ داریاں بھی انجام دے گا۔ بورڈ کنٹریکٹرز، کنسلٹنٹس اور تعمیراتی معیار کی نگرانی کرے گا، جبکہ اس میں سرکاری اور نجی شعبے کے نمائندے شامل ہوں گے۔
احد چیمہ نے کہا کہ وفاقی حکومت اور کنسٹرکشن ایسوسی ایشن آف پاکستان کے درمیان بورڈ کے قیام کی ضرورت پر مکمل اتفاق ہے۔ حکومت مجوزہ فریم ورک حتمی منظوری کے لیے وزیراعظم کو پیش کرے گی۔
حکومت تعمیراتی شعبے میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور مقامی استعداد بڑھانے کے لیے ٹیکس مراعات اور درآمد و برآمد پالیسیوں میں بھی اصلاحات کا جائزہ لے رہی ہے۔
وزیر اقتصادی امور نے اعلان کیا کہ سرکاری ترقیاتی منصوبوں کے لیے ڈیفیکٹ لائیبلٹی پیریڈ ایک سال سے بڑھا کر تین سال کیا جائے گا، جبکہ اسے مستقبل میں پانچ سال تک بڑھانے کا منصوبہ بھی بنایا جارہا ہے۔
احد چیمہ نے کہا کہ عوامی انفراسٹرکچر منصوبوں کی تکمیل کے کچھ عرصے بعد ہی خراب ہونا ناقابل قبول ہے۔ ڈیفیکٹ لائیبلٹی پیریڈ بڑھانے سے کنٹریکٹرز اور متعلقہ اداروں کو تعمیراتی معیار برقرار رکھنے کا پابند کیا جاسکے گا۔
اجلاس میں کنسلٹنٹس کی ذمہ داری کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ وزیر اقتصادی امور نے کہا کہ اس وقت ناقص کارکردگی یا معاہدے کی خلاف ورزی پر کنٹریکٹرز کے خلاف کارروائی کی جاسکتی ہے، تاہم کنسلٹنٹس کے لیے مؤثر قانونی اور جرمانے کا نظام موجود نہیں۔
مجوزہ بورڈ کے ریگولیٹری فریم ورک کے تحت کنسلٹنٹس کو بھی براہ راست نگرانی کے دائرے میں لایا جائے گا اور ڈیزائن کی خامیوں یا تکنیکی غلطیوں پر انہیں قانونی اور مالی طور پر جوابدہ بنایا جائے گا۔
تعمیراتی ایسوسی ایشن آف پاکستان نے بھی کنسلٹنٹس کو جوابدہ بنانے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے ڈیزائن کے معیار کو بہتر بنانے اور عوامی سرمایہ کاری کے تحفظ میں مدد ملے گی۔
تعمیراتی شعبے کو بینکنگ سہولیات اور مالی و پرفارمنس گارنٹی کے حصول میں درپیش مشکلات کے پیش نظر وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی کو اسٹیٹ بینک اور پاکستان بینکس ایسوسی ایشن کے ساتھ تفصیلی مشاورت شروع کرنے کی ہدایت کردی گئی۔
خصوصی کنسٹرکشن ڈویلپمنٹ بینک کے قیام کا فیصلہ اسٹیٹ بینک اور پاکستان بینکس ایسوسی ایشن کی تجاویز اور مالی امکانات کا جائزہ لینے کے بعد کیا جائے گا۔












