اسلام آباد ( پاک ترک نیوز) حکومت نے ڈسکوز اور کے الیکٹرک کے صارفین سے مالی سال 2026 کی دوسری سہ ماہی کے لیے تقریباً 34 ارب روپے اضافی وصول کرنے کی درخواست کردی۔نیپرا میں جمع کرائی گئی درخواست کے مطابق صارفین سے ایک روپے 34 پیسے فی یونٹ کے حساب سے سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں رقم وصول کرنے کی تجویز ہے۔
ابتدائی طور پر ڈسکوز نے دوسری سہ ماہی کے لیے 23 ارب 31 کروڑ روپے کی ایڈجسٹمنٹ مانگی تھی، تاہم بعد میں یہ رقم بڑھا کر 33 ارب 77 کروڑ 80 لاکھ روپے کردی گئی۔دستاویزات کے مطابق مجوزہ ایڈجسٹمنٹ میں 46 ارب 28 کروڑ روپے سے زائد کیپیسٹی چارجز، 4 ارب 93 کروڑ روپے آپریشن اور مینٹیننس اخراجات جبکہ 13 ارب 51 کروڑ روپے سے زائد کی منفی ایڈجسٹمنٹ شامل ہے
حکام کے مطابق بجلی کی کھپت میں کمی کے باعث کیپیسٹی چارجز میں اضافہ ہوا۔ پشاور الیکٹرک پاور کمپنی کے حکام نے بتایا کہ بجلی کی کھپت میں تقریباً 5 فیصد کمی ہوئی، جس کی بڑی وجہ گھریلو اور کمرشل صارفین کی طلب میں کمی ہے۔
حکام نے بجلی کی طلب میں کمی کی ایک وجہ سولرائزیشن کو بھی قرار دیا۔ اس حوالے سے نیپرا کے رکن مقصود انور خان نے کہا کہ سولر بجلی کی دستیابی کے باعث دن کے اوقات میں بجلی کے نظام پر دباؤ کم ہوا ہے اور لوڈشیڈنگ زیادہ تر رات کے وقت ہورہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بجلی بل کا نیا فارمیٹ ،اب سمجھنا ہو گا آسان
نیپرا رکن نے یہ مؤقف بھی مسترد کیا کہ سولرائزیشن نے بجلی کی فروخت میں نمایاں کمی پیدا کی ہے۔
دورانِ سماعت صنعتی شعبے کے نمائندوں نے مجوزہ اضافے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صنعت پہلے ہی بجلی کی بلند قیمتوں اور دیگر اخراجات کا بوجھ برداشت کر رہی ہے، مزید اضافہ صنعتی شعبے کی مسابقتی صلاحیت کو متاثر کرے گا۔
کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے نمائندے تنویر بیری نے کہا کہ کیپیسٹی چارجز پہلی سہ ماہی کے 36 ارب روپے سے بڑھ کر 50 ارب روپے سے زائد ہوگئے ہیں، جس سے صارفین پر مجموعی طور پر 86 ارب روپے سے زیادہ کا اضافی بوجھ پڑ رہا ہے۔
صنعتی نمائندوں نے سوال اٹھایا کہ ایک طرف صارفین سے بھاری کیپیسٹی چارجز وصول کیے جارہے ہیں جبکہ دوسری جانب ڈسکوز اور کے الیکٹرک لوڈشیڈنگ بھی کررہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ پرانے اور غیر مؤثر پاور پلانٹس کو کیپیسٹی ادائیگیوں کے باعث بجلی کی لاگت میں اضافہ ہورہا ہے، اس لیے نیپرا مجوزہ سہ ماہی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ کا تفصیلی جائزہ لے اور اضافے کو مؤخر کرے۔











