تہران ( پاک ترک نیوز) خلیج میں ایک بار پھر جنگ کے بادل منڈلانے لگے ۔ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی خطرناک موڑ اختیار کرگئی۔ دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر حملوں کے دعوے کیے ہیں جبکہ آبنائے ہرمز کے اطراف صورتحال انتہائی کشیدہ بتائی جارہی ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فورسز نے ایرانی جزیرۂ قشم میں فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ سینٹ کام کے مطابق یہ کارروائی ایران کی جانب سے کیے گئے میزائل اور ڈرون حملوں کے جواب میں کی گئی۔
امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ایران نے خطے میں میزائل داغے اور بحری جہازوں کو بھی نشانہ بنانے کی کوشش کی، تاہم امریکی اور اتحادی دفاعی نظام نے متعدد میزائل اور ڈرون تباہ کر دیئے ۔
سینٹ کام کے مطابق بحرین کی جانب داغے گئے تین میزائل مار گرائے گئے جبکہ کویت کی طرف آنے والے دو میزائل اپنے اہداف تک پہنچنے سے پہلے ہی گر گئے۔
دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے امریکی مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ قشم میں امریکی حملے کے جواب میں امریکی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق پاسداران نے امریکی ففتھ فلیٹ ہیڈکوارٹر، ایئربیسز اور دیگر فوجی تنصیبات پر میزائل اور ڈرون حملے کیے۔ ایران نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز کے قریب ایک ایرانی آئل ٹینکر پر حملے کے بعد جوابی کارروائی کی گئی۔
پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے والوں کو بھاری قیمت ادا کرنا ہوگی۔
ادھر کویت اور بحرین میں فضائی دفاعی نظام مکمل طور پر فعال رہا۔ کویتی حکام کے مطابق شہریوں نے دھماکوں کی آوازیں سنی جو میزائل اور ڈرون مار گرانے کے دوران پیدا ہوئیں۔
کچھ غیر ملکی میڈیا اداروں نے دعویٰ کیا ہے کہ بعض میزائل شہری علاقوں کے قریب گرے، تاہم ان اطلاعات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہوسکی۔
امریکی اور ایرانی دعووں اور جوابی دعووں کے درمیان خلیج میں کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ عالمی برادری کو خدشہ ہے کہ اگر صورتحال پر قابو نہ پایا گیا تو یہ تصادم پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔












