اسلام آباد (پاک ترک نیوز )پمز میں پیش آنے والے سانحے پر پمز حکام سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کے اجلاس میں پیش ہوگئے، جہاں واقعے پر حکام سے سخت سوالات کیے گئے۔
حکام کے مطابق سانحے کے بعد پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر رانا عمران کو معطل کردیا گیا تھا۔
سیکرٹری صحت نے کمیٹی کو بتایا کہ وزیراعظم کی جانب سے قائم کردہ کمیٹی کی رپورٹ کے بعد 8 افراد کو معطل کیا گیا، جبکہ معطل کیے گئے افراد کے خلاف کارروائی کے لیے وزارت داخلہ کو مراسلہ بھی ارسال کیا گیا ہے۔
قائمہ کمیٹی کی چیئرپرسن سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے سانحہ پمز پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سوال کیا کہ کیا اب تک ان افراد کے خلاف کوئی مقدمہ درج کیا گیا ہے؟
سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے ہدایت کی کہ اس معاملے پر مقدمہ درج کرکے اس کی نقل کمیٹی کے سامنے پیش کی جائے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کی مدت ملازمت میں توسیع کس نے کی اور کیا انہیں اسی واقعے کے لیے عہدے پر لایا گیا تھا؟
ان کا کہنا تھا کہ ایگزیکٹو ڈائریکٹر کو معطل کردیا گیا ہے، لیکن وہ تو یہاں سے چلے جائیں گے۔
اجلاس میں سینیٹر ایمل ولی خان نے کہا کہ اس معاملے میں بچوں کے والدین کو مکمل طور پر خاموش کرا دیا گیا۔ اس واقعے کی مکمل ذمہ داری ریاست پر عائد ہوتی ہے۔
چیئرپرسن کمیٹی نے کہا کہ ایسے واقعات پہلے بھی بہت سے ہوئے ہیں، تاہم یہ معاملہ زیادہ نمایاں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ بچے کی پیدائش کے دوران خواتین ایک انتہائی مشکل مرحلے سے گزرتی ہیں، لیکن یہاں ماؤں کو دوہرا صدمہ دیا گیا۔
سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک بچے کو بچانے پر خاتون کو ایک کروڑ روپے دیے گئے، معلوم نہیں انہیں یہ رقم ملی بھی ہے یا نہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ وہ دو ہفتے قبل بھی وزیر کو آگاہ کرچکی تھیں کہ پمز میں اے سی کام نہیں کررہے۔
کمیٹی اجلاس میں سانحہ پمز کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی، مقدمات کے اندراج اور متاثرہ خاندانوں کو انصاف کی فراہمی کے معاملے پر تفصیلی غور کیا گیا۔












