استنبول (پاک ترک نیوز )ترکیہ نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے ملکی معیشت پر اثرات کے باعث رواں سال کے اختتام تک مہنگائی کی شرح کا ہدف بڑھا کر 28.4 فیصد کردیا۔ترکیہ کے نائب صدر جودت یلماز نے 2027 سے 2029 کے لیے وسط مدتی اقتصادی پروگرام پیش کرتے ہوئے کہا کہ توقع ہے کہ 2026 کی چوتھی سہ ماہی میں مہنگائی دوبارہ کم ہونا شروع ہوگی اور سال کے اختتام تک 28.4 فیصد تک پہنچ جائے گی۔حکومت کی گزشتہ سال کی اقتصادی منصوبہ بندی میں 2026 کے اختتام تک مہنگائی کی شرح 16 فیصد رہنے کی پیش گوئی کی گئی تھی، تاہم نئی پیش گوئی اس سے نمایاں طور پر زیادہ ہے۔
نئے اقتصادی پروگرام کے تحت ترکیہ میں مہنگائی کی شرح 2027 میں 21 فیصد، 2028 میں 13.5 فیصد اور 2029 میں 9 فیصد تک لانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔نائب صدر جودت یلماز کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ نے مہنگائی کے تخمینے میں اضافے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ مرکزی بینک کے مطابق جنگ کے براہِ راست اور بالواسطہ اثرات سے مہنگائی میں تقریباً 7 فیصد پوائنٹس اضافہ ہوا ہے۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ترکیہ میں سالانہ مہنگائی کی شرح جولائی میں 31.75 فیصد سے کم ہو کر اگست میں 31.51 فیصد ہوگئی۔
یہ بھی پڑھیں: ترکیہ کی دفاعی صنعت میں بائیکار ڈرونز کی دھوم
ترکیہ میں مہنگائی دسمبر 2021 سے مسلسل 30 فیصد سے زائد رہی ہے، جبکہ مئی 2024 میں 75.5 فیصد کی بلند ترین سطح پر پہنچنے کے بعد اس میں کمی کا رجحان شروع ہوا۔جودت یلماز کا کہنا تھا کہ حکومت نے مہنگائی پر قابو پانے میں نمایاں پیش رفت کی ہے اور مہنگائی میں کمی اقتصادی پروگرام کی اولین ترجیح ہے۔












