انقرہ ( پاک ترک نیوز) مشرق وسطیٰ میں جنگوں کے شعلے بھڑک رہے ہیں، ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی برقرار ہے، جبکہ غزہ میں بھی اسرائیلی حملے جاری ہیں۔ ایسے میں ترکیہ نے سفارت کاری کا محاذ سنبھال لیا ہے۔ ترک صدر رجب طیب اردوان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلی فونک رابطہ کیا اور ایران کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنے پر زور دیا ہے۔
ترک صدر رجب طیب اردوان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان دوطرفہ تعلقات، ایران اور غزہ کی صورتحال سمیت پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ترک صدارتی دفتر کے مطابق صدر اردوان نے ٹرمپ پر زور دیا کہ ایران کے ساتھ بات چیت کا سلسلہ جاری رکھنا انتہائی اہم ہے، سفارت کاری سے فائدہ اٹھایا جائے، ترکیہ اس معاملے میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔
صدر اردوان نے غزہ کی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل ایسے وقت میں غزہ کے فلسطینیوں پر حملے کر رہا ہے جب امن منصوبے کے دوسرے مرحلے پر عمل درآمد ہونا تھا۔
دوسری جانب واشنگٹن سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے جوہری پروگرام پر ایک بار پھر سخت مؤقف اختیار کیا ہے۔ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر واضح کیا کہ ایران کو کسی بھی طریقے، شکل یا صورت میں جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔امریکی صدر نے ایران کو جوہری ہتھیاروں سے روکنے کو اپنی حکومت کی اولین ترجیح قرار دیا ہے۔
امریکی صدر کے ایلچی جیرڈ کشنر کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات سنجیدہ اور وسیع پیمانے پر جاری ہیں۔ فاکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں کشنر نے کہا کہ فریقین اب تک کسی باہمی مفاہمت تک نہیں پہنچ سکے، تاہم امریکی اور ایرانی حکومت کے مختلف اداروں کے درمیان مذاکرات شاید پہلے سے زیادہ مضبوط ہیں۔کشنر کے مطابق دونوں جانب سے بات چیت جاری ہے، لیکن ابھی تک کسی حتمی اتفاق رائے یا مفاہمت تک رسائی حاصل نہیں ہوسکی۔
یہ بھی پڑھیں: آذربائیجان ترکیہ کا سب سے بڑا پائپ لائن گیس سپلائر بن گیا
ایک طرف ٹرمپ ایران کو جوہری ہتھیاروں سے روکنے پر بضد ہیں، دوسری جانب ترکیہ مذاکرات اور سفارت کاری کا راستہ اختیار کرنے پر زور دے رہا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اردوان کی سفارتی پیش قدمی اور واشنگٹن تہران کے درمیان جاری مذاکرات خطے کو جنگ سے نکال کر امن کی طرف لے جانے میں کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں۔












