
از: سہیل شہریار
دنیا کے سرکردہ ممالک اس وقت چھٹی نسل کے لڑاکا طیارے تیار کرنے کی دوڑ میں لگے ہیں۔ تاہم یہ حقیقت ہے کہ چھٹی نسل کے لڑاکا جیٹ کے لیے کوئی عالمی طور پر تسلیم شدہ معیار نہیں ہے۔ اور حقیقتاً یہ اصطلاح مارکیٹنگ اور پروپیگنڈا کے لیے استعمال ہوتی ہے۔چھٹی نسل کے لڑاکا طیاروں کا تصور جن اجزاکے گرد گھومتا ہے وہ تمام پہلوؤں سے اسٹیلتھ فلائنگ سپر کمپیوٹر کمانڈ سینٹرز سے مشابہت رکھتا ہے جو میزائل لے جاتے ہیں۔
چنانچہ اس وقت چھٹی نسل کے لڑاکا جیٹ بنانے کے سات اہم پروگرام جاری ہیں ۔جن میں دنیا کی تمام بڑی فوجی طاقتیں شامل ہیں۔
اس میں سر فہرست امریکی فضائیہ کا بوئنگ ایف۔ 47 کا پروگرام ہے جو اس وقت دنیا کا سب سے بڑا 6 ویں جنریشن کا لڑاکا جیٹ پروگرام سمجھا جاتا ہے۔ اس کا مقصدایف۔ 22 ریپٹرکو تبدیل کرنا ہے۔ اگرچہ چین 2024 میںاپنا چھٹی نسل کا لڑاکا طیارہ اڑانے والا پہلا ملک تھا۔ لیکن امریکہ نے 2020 میں اپنےایف۔ 47 کی پرواز کا خفیہ مظاہرہ کیا تھا۔
چین کے جے۔36کا پروگرام دوسرے نمبر پر ہے۔2024 میں چین نے پہلی بار جے۔36 چنگڈو کو آزمائشی طور پر اڑایا تھا۔ اس کے بعد سےاب تک اس پرگرام میں مزید پروٹو ٹائپ سامنے آئےہیں۔ ان میں سے ہر ایک ڈیزائن میں تبدیلیاں ہیں جو تیز رفتار پروٹو ٹائپنگ کو ظاہر کرتی ہیں۔ اس لڑاکا جہاز کا سب سے قابل ذکر پہلو یہ ہے کہ یہ تین انجنوں کا حامل ہے۔
تیسرا پروگرام گلوبل کمبیٹ ایئر پروگرام (جی سی اے پی) ہے۔ یہ برطانیہ، اٹلی اور جاپان کی مشترکہ کوشش ہے۔ تاکہ وہ اپنے چوتھی نسل کے لڑاکا جہازوں کو چھٹی نسل کے جدید جہازوں سے بدل سکیں۔اس پروگرام کوبرطانوی رائل ائر فور س میں ٹیمپسٹ کہا جاتا ہے۔یہ 6 ویں جنریشن کے سب سے معتبر اور اچھی طرح سے رپورٹ کیے جانے والے پروگراموں میں سے ایک ہے۔ ٹیمپسٹ کا مقصدایف۔ 35 لڑاکا طیاروں کے ساتھ خدمات سرانجام دینا ہے۔جبکہ اس کی پہلی آزمائشی پرواز 2027میں متوقع ہے۔
امریکی بحریہ کا ایف /اے۔ڈبل ایکس پروگرام ایک اور انتہائی سنجیدہ چھٹی نسل کا پروگرام ہے۔اس پروگرام کےچوتھے نمبر پر آنے کی وجہ مکمل طور پر فنڈز کی عدم دستیابی ہے۔کیونکہ واشنگٹن کے اندر اس بارے میں تنازعہ چل رہا ہے کہ آیاایف۔ 47 تیار ہونے تک پروگرام کومنجمد رکھا جائے یا دونوں کو ایک ہی وقت میں فنڈ زدینا ہیں۔
پانچواں پروگرام شین یانگ جے۔ 50 ہے۔جسے جے۔ایکس ڈی یا جے۔ ایکس ڈی ایس بھی کہا جاتا ہے۔ چین میں اس وقت تیاری کے مراحل سے گزرنے والے جدید ترین لڑاکا طیاروں میں سے ایک ہے۔ یہ 2024 کے آخر میں سامنے آیا اور ایسا لگتا ہے کہ فی الحال فلائٹ ٹیسٹنگ میں ہے۔ یہ جیٹ ایک ملٹی رول یا فضائی برتری کا لڑاکا ہو سکتا ہے۔
اسکے بعد چھٹی نسل کا لڑاکا طیارہ بنانے کےفرانسیسی، جرمن، اور ہسپانو ی ایف سی اے ایس فائٹر پروگرام کوپانچویں نمبر پررکھا گیا ہے ۔ اس پروگرام کو حقیقی مسائل کا سامناہے ۔ جرمنی کے ایئربس اور فرانس کے ڈسالٹ کے درمیان تلخ اختلافات نے ترقیاتی کام کو روک دیا ہے۔اس کے نتیجے میں2040 تک تکمیل کا بیان کردہ ہدف اب غیر حقیقی ہو گیاہے۔ کہا جا رہا ہے کہ اگر پروگرا م ختم ہو جاتا ہے تو فرانسیسی ڈوسالٹ ممکنہ طور پر اسے اکیلے ہی تکمیل تک لے جائے گی۔
روس نے 2013 میں اپنے چھٹی نسل کے پروگرام پی اے کے۔ڈی پی کا آغاز کیا تھا جسےاکثرمگ۔ 41 کا نام دیا جاتا ہے ۔ چار سال کی خاموشی کے بعد2017 میں، رشیا ٹوڈے نے اطلاع دی کہ مجوزہ لڑاکا جہاز خلا میں اڑان بھرے گا، سیٹلائٹس کو مار گرائے گا، میک۔4پلس پر پرواز کرے گا، لیزرہتھیاروں سے لیس گا، مصنوعی ذہانت کا استعمال کرے گا۔تاہم اس کی پہلی پرواز 2020 میں ہونے والی تھی۔مگر ایسے لگتا ہے کہ یہ پروگرام انجماد کا شکار ہے ہے۔ اور 2023 کے وسط سے اس کے بارے میں کوئی نئی معلومات سامنے نہیں آئی ہیں۔












