
از: سہیل شہریار
پاک فضائیہ کی جانب سےملک کی سمندری حدود اور ملحقہ بین الاقوامی پانیوں میں فضائی نگرانی و حفاظت کے لئے اپنے موجودہ پروں والے ٹربو پی۔3سی اورین جہازوںکو بحری سلطان پراجیکٹ کے تحت حاصل کئے جا رہے طویل فاصلے تک بحری نگرانی اور حفاظت کرنے والے جیٹ جہازوں میں سے پہلا جہاز پاک بحریہ کے حوالے کر دیا گیا ہے۔
آئیے آپکو بحری سلطان۔اول سے ملاتے ہیں۔
سمندری نگرانی کے روایتی جہازوں اور آلات سے ہٹ کر پاک بحریہ نے 2018میں اپنےموجودہ پروں والے ٹربو پی۔3سی اورین جہازوں کو تبدیل کرکے اپنی ضروریات کوسامنے رکھتے ہوئے جد ید ترین ٹیکنالوجی سے آراستہ طویل فاصلے تک بحری نگرانی اور حفاظت کے لئے جیٹ جہاز حاصل کرنے کا فیصلہ کیا۔ تب 2020میںپہلا استعمال شدہ ایمبرئیر لائینج 1000ای جہاز خریدا گیااور اسکی اندرونی طور پر مکمل جانچ پڑتال کی گئی اور ساتھ ہی عملے کی تربیت کے لئے بروئے کار لیا گیا۔ بعد ازاں پانچ سال پہلے 2021 میںاٹلی کی کمپنی لیونارڈو اور جنوبی افریقہ کی پیراماؤنٹ سے تین ایمبرئیرلائینج 1000 طیاروں کو طویل فاصلے کے سمندری گشتی پلیٹ فارمز میں تبدیل کرنے کے لیے معاہدہ کیا گیا۔اب سمندری نگرانی و حفاظت کی بڑھتی ہوئی ضرورت کے پیش نظر پاکستان نیوی نے اپنے فضائی نگرانی کے جہازوں کے مکمل بیڑے کو تبدیل کرتے ہوئے بحری سلطان منصوبے کے تحت دس جہازوں تک بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے ۔
پاکستان نیوی نے مارچ کے آخر میں لیونارڈو اور پیراماؤنٹ ایرو اسپیس سسٹمز کے ذریعے ایمبریئر لائنیج 1000 کمرشل جیٹ سے تبدیل ہونے والا اپنا پہلا طویل فاصلے تک مار کرنے والا میری ٹائم گشتی طیارہ حاصل کرلیا ہے۔
پیراماؤنٹ ائیروسپیش سسٹمز کو ان جہازوں کی تیاری کے علاوہ اس پروجیکٹ کے لیے دیکھ بھال، مرمت اور اوور ہال (ایم آر او) کام بھی سونپا گیا ہے۔
پاک بحریہ تیزی سے بدلتے حالات میں میری ٹائم ایوی ایشن کو محض فضائی جاسوسی کی صلاحیت کی بجائے ایک آپریشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول نیٹ ورک کے طور پر دیکھتی ہے۔یہ طیارہ جسے بحری سلطان کا نام دیا گیا ہےجدید نظاموں سے لیس ہے۔ جن میں الیکٹرانک سپورٹ میژرز/الیکٹرانک انٹیلی جنس (ESM/ELINT) سینسرز، الیکٹرو آپٹیکل سسٹم، ایکٹو الیکٹرانک سکینڈ اری (AESA) ریڈار، سیٹلائٹ کمیونیکیشنز، چاف/فیئر ڈسپنسر، نیز چارجنگ وغیرہ شامل ہیں۔
دفاعی ماہرین نے ایمبریئر لائنیج 1000 طیارے کی شمولیت کو پاک بحریہ کی میری ٹائم گشتی صلاحیتوں میں ایک "قابل ذکر اضافہ” قرار دیا ہے۔انکا کہنا ہے کہ اپنی جدید ترین ٹیکنالوجی کے ساتھ، سی سلطان موجودہ پی۔3سی اورین اور اے آر ٹی۔ 72 طیاروں جیسے موجودہ پلیٹ فارمز کیجگہ لے گا۔ جبکہ رینج، برداشت، اینٹی سب میرین وارفیئر، اور سطحی جہاز کی روک تھام کی صلاحیتوں کے لحاظ سے اعلیٰ کارکردگی پیش کرے گا۔
مزید براں بحری سلطان نگرانی و جاسوسی کے آلات کے علاوہ اندرون ملک تیار کردہ تارپیڈوز الغراق، اینٹی شپ میزائلز اور ڈیپتھ چارجرز سے بھی لیس ہے۔جو اسے فضائی نگرانی کے ساتھ ساتھ دشمن کی آب دوزوں اور جہازوں کے خلاف فوری کاروائی کا اہل بھی بناتا ہے۔












