
از: سہیل شہریار
امریکی دفاعی ٹھیکیدار نارتھروپ گرومن نے امریکی فضائیہ کوایف۔ 16 لڑاکا طیاروں کے لیےایک ہزار اے این/اے جی پی۔83 ریڈار فراہم کر دئیے ہیں۔ جو کہ جدید کاری کے عمل سے گزر رہےایف۔ 16 بلاک 70/72 لڑاکا طیاروں کے لیے تیار کیے گئے ہیں۔ اور ساتھ ہی پرانے ایف۔ 16 کو ساڑھے چار جنریشن کے معیاری ایویونکس سے جدید بنانے کے لیے تیار کیے گئے ہیں۔
اے این/اے پی جی۔ 83 ایک فعال الیکٹرانک طور پر سکین شدہ ارے ریڈار ہے جو پہلی بار 2010 کی دہائی کے وسط میں سروس میں داخل ہوا۔ اس میں بہت سی جدید ٹیکنالوجیز کا استعمال کیا جاتا ہےجو پانچوں جنریشن کےنئے ایف۔ 35 فائٹر کے اے این/اے پی جی۔ 81 ریڈارکے پیکیج کا حصہ ہیں۔
امریکی فضائیہ کی رپورٹ کے مطابق ایف۔ 35 کوبڑےپیمانے پر بنانے میں بڑی تاخیر کی وجہ سے ایف۔ 16 کی ساڑھے چار جنریشن کےمعیار میں جدید کاری نے زیادہ اہمیت اختیار کر لی ہے۔ اسی بنا پر امریکی فضائیہ نے اپنے پہلے سے دئیے گئے ایف۔35کے آرڈرز کو ایک تہائی تک کم کر دیا ہے۔
امریکی فضائیہ کو تیاری کے لئے درکار انتہائی زیادہ وقت کی وجہ سے ایف ۔35لڑاکا جہازوں کی دستیابی کا ہی مسئلہ درپیش نہیں ۔ساتھ ہی ان جہازوں کو اڑانے کے لئے پائلٹس کی کٹھن تربیت۔ایف۔35کی دیکھ بھال کے خطیر اخراجات کے علاوہ بھاری آپریشنل اخراجات کا بھی سامنا تھا۔اسی کے پیش نظر امریکی فضائیہ کے فیصلہ سازوں نے کم لاگت کے ساتھ ایف۔16لڑاکا جہازوں کی ساڑھے چار جنریشن کے جدید ایف۔16میں جدید کاری پر توجہ مرکوز کی ہے ۔اور ساتھ ہی پاکستان سمیت ایف۔16جہازوں کے پیڑے رکھنے والے دو درجن کے قریب دوست ممالک کو بھی ایف۔16کی جدید کاری کے عمل میں شامل کر لیا ہے ۔جس سے ان جہازوں کی مؤثر کارکردگی کی عمر 2040تک بڑھ جائے گی۔
اس وقت اے این/اے پی جی۔83ارے ریڈارایف ۔16جہازوں کی جدید کاری کی منصوبہ بندی کا مرکزی نقطہ بنا ہوا ہے۔ چنانچہ ایف۔ 35 فائٹرزپروگرام میں خامیوں کی وجہ سے امریکی سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی نے مئی 2025 میں ایئر فورس کے سابق چیف آف سٹاف جنرل ڈیوڈ ایلون سے ایف۔ 16 کی جدید کاری اور نئی خریداری کے لئے کہا تھا۔ اگرچہ یہ آپشن پہلے ناقابل تصور تھا لیکن ایران جنگ کےدوران جدیدبنائے جانے کے بعد ایف۔16کی کارکردگی سے اس کی حمایت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
پاک فضائیہ سے وابستہ دفاعی تجزیہ کاروں کی رائے ہے کہ تمام تر جدید کاری کے باوجود ایف۔16ایک انجن والا ایک ہلکا پھلکا لڑاکا طیارہ ہی رہے گا۔ جس کا سامنا اب کہیں زیادہ قوت برداشت رکھنے والے جدید چینی جے۔10سی اورجے۔16کے علاوہ روسی ایس یو۔35سے ہو گا۔جو اس چار گنا سے زیادہ بڑے ریڈاروں کو مربوط کرتے ہیں اور اس سے کہیں زیادہ بڑے میزائل ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتےہیں۔












