
از: سہیل شہریار
بھارت کی جانب سےاپنے ملٹی رول فائٹر ائیر کرافٹ پروگرام کے تحت جدید دفاعی تاریخ کی سب سے بڑی خریداریوں میں سے ایک تقریباً 36 ارب امریکی ڈالرکی لاگت سے مزید 114 فرانسیسی رافیل طیاروں کےمجوزہ حصول کا معاملہ حکومت کاحکومت سے معاہدہ طے پانے کے باوجودمتعدد مشکلات سے دوچار ہے ۔جن میں ان طیاروں کی فراہمی کے پہلے کئے گئے سودے، بھارت میں رافیل کی پیداوار میں حائل روکاوٹیں اور ٹیکنالوجی کی منتقلی میں دشواریاں شامل ہیں۔ اور اس کے نتیجے میں بھارت کو مزید رافیل طیارے حاصل کرنے کے لئے 2030کی دہائی کے آخر تک انتظار کرنا پڑے گا۔
معروف فرانسیسی نیوزویب سائٹـ” لا اسینشل ڈل ایکو”کی تازہ رپورٹ کے مطا بق رافیل بنانے والی کمپنی ڈوسالٹ کی پیداواری رکاوٹیں براہ راست پروگرام پر اثر انداز ہو رہی ہیں۔ 2025 کے آخر میںکمپنی کے پاس 220 رافیل طیاروںکی فراہمی کے آڈرزکا بیک لاگ تھا۔ جن میں فرانسیسی فضائی اور خلائی فورس کے لیے 56، متحدہ عرب امارات کے لیے 80 ، انڈونیشیا کے لیے 42 جن میں سےپہلا طیارہ جنوری 2026 میں فراہم کیا گیا، 12 سربیا کے لیے اور بقیہ 30 یونٹس مصر کے ضمنی آرڈر کے شامل ہیں۔
پیداواری اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ رواں سال کے آغاز تک سالانہ 26 طیاروں کی پیداواری شرح ہے۔جو 2030 تک بڑھ کر 35 یونٹس سالانہ ہو جائے گی۔ اس تناظر میںبھارت سے طے پانے والے معاہدے کے تحت 18 رافیل براہ راست فراہم کیے جائیں گے اور اس کے بعد بھارت میں لائسنس یافتہ پیداوار 2030 کی دہائی کے آخر تک بڑھ سکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ڈوسالٹ نے 2024 کے اوائل میں ہی فرانسیسی وزارت دفاع اور فضائیہ کو متنبہ کیا تھا کہ اضافی آرڈر لینا اس کی پیداواری صلاحیت میں نمایاں توسیع کے بغیر "مسئلہ” ہوگا۔
اسی کے ساتھ ڈوسالٹ اور فرنچ وزارت دفاع نے بھارت کے فرانسیسی رافیل طیاروں کی اندون ملک تیاری کے ساتھ ان میں آزادانہ طور پراپنی ضرورت کے مطابق تبدیلیاں کرنے کے خواب کو چکنا چور کر دیا ہے۔ بھارت رافیل طیاروں کے تھالیس آر بی ای2 (اے ای ایس اے) ریڈار، ماڈیولر ڈیٹا پروسیسنگ یونٹ (ایم ڈی پی یو) جسے اکثر ہوائی جہاز کا آپریشنل "دماغ” کہا جاتا ہے اور سپکٹرا الیکٹرانک وار فیئر سوٹ کے سورس کوڈز تک رسائی کا خواہاں ہے۔ مگرفرانسیسی اسے انتہائی حساس اور حفاظتی ٹیکنالوجی سمجھتے ہیں جو کئی برسوں کی تحقیق اور تجربات کے نتیجے میں تیار کی گئی ہے۔
بھارتی فضائیہ کو رافیل کے ایف۔ 4 اور پھرایف۔ 5 ورژن ملنے کی توقع ہے۔ جو اسکے پاس 2022 سے موجود 36 طیاروں کے اپ گریڈ ماڈل ہیں۔ تاہم بھارتی فضائیہ ایک کنٹرول شدہ سافٹ ویئر انٹرفیس کے ذریعے ہوائی جہاز کو چلا سکتی ہے۔ مگر مکمل آپریشنل کنٹرول حاصل نہیں ہو گا جو ہتھیاروں کو مربوط کرنے یا ابھرتے ہوئے خطرات کا خودمختار جواب دینے کی صلاحیت کو محدود کرتا ہے۔
اگرچہ بھارتی فضائیہ کے لئے114 رافیل طیاروں کا پروگرام اب باضابطہ طور پر شروع کیا گیا ہے۔ مگراس کی کامیابی کے لیے کچھ اور درکار ہے۔اپنے کیریئر کے دوران اس پروگرام میں شامل ایئر فورس کے سابق افسر تصدیق کرتے ہیں کہ یہ پروگرام ترجیحات کی تبدیلی، لامتناہی غور و فکر اور دائمی طریقہ کار کے ابہام میں پھنس گیا ہے۔ ایک سینئر ایگزیکٹو کے مطابق سرخ فیتے کی پیدا کردہ روکاوٹیں،پے در پے منظوریوں، اور بیوروکریسی کے طریقہ کار نے منصوبہ بندی میں سالوں کی تاخیر کی۔ اس سے اخراجات میں اضافہ ہوا، اور آپریشنل عمل درآمد ملتوی ہوتا گیا۔
پروگرام کے مطابق 114 فرانسیسی ٹوئن انجن والے لڑاکا طیاروں میں سے 96 کوبھارت میں اسمبل کیا جائے گا۔ یہ طیارے ڈوسالٹ ریلائنس ائروسپیس لیمیٹڈ کے ناگ پور کے پلانٹ میں تیار ہونگے۔ ڈوسالٹ کے پاس اس کمپنی کے 51فیصد اکثریتی حصص ہیں ۔ یہ ناگپور پلانٹ کی ہندوستان میں رافیل کی پیداوار کے ایک ممکنہ مرکز کے طور پر اور یہاں تک کہ برآمدی آرڈرز کی فراہمی کے لیے دوسری عالمی اسمبلی سائٹ کے طور پر بھی نشاندہی کرتا ہے۔مگر اس میں ریلائنس کا مستقبل کاعملی کردار ابھی تک واضح نہیں ہے اور یہ غیر یقینی صورتحال پروگرام کی ٹائم لائن کے حصول کو دشواربنا سکتی ہے۔اسی طرح ٹاٹا ایڈوانسڈ سسٹمز سمیت 30سے زائد بھارتی کمپنیوں نے رافیل کے 40سے60فیصد تک پرزہ جات کی بتدریج مقامی تیاری میں حصہ لینا ہے مگراس کی تفصیلات واضح نہیں۔ جو مقامی پیداوار کو مزید تاخیر سے دوچار کر سکتا ہے۔












