کاسمیٹکس جلد کے لیے کتنے خطرناک؟ ماہرین نے جلدی الرجی، حساسیت، کیمیکلز کے نقصانات اور محفوظ بیوٹی مصنوعات کے انتخاب سے متعلق اہم معلومات فراہم کر دیں۔
لاہور( پاک ترک نیوز) خوبصورت نظر آنے کی خواہش میں استعمال ہونے والی کاسمیٹکس مصنوعات بعض اوقات جلد کے لیے نقصان دہ بھی ثابت ہو سکتی ہیں۔ ماہرینِ جلد کے مطابق غیر معیاری، جعلی یا ضرورت سے زیادہ استعمال کی جانے والی بیوٹی مصنوعات الرجی، جلدی بیماریوں اور مستقل نقصان کا باعث بن سکتی ہیں۔
میک اپ، فاؤنڈیشن، کریمیں، فیس واش اور دیگر کاسمیٹکس مصنوعات روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکی ہیں، لیکن ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ ہر پروڈکٹ ہر جلد کے لیے موزوں نہیں ہوتی۔
غیر معیاری یا جعلی کاسمیٹکس میں موجود بعض کیمیکلز جلد پر خارش، سرخی، جلن، دانے، سوجن اور الرجی کا سبب بن سکتے ہیں۔ بعض صورتوں میں جلد کی قدرتی حفاظتی تہہ بھی متاثر ہو جاتی ہے۔ماہرین کے مطابق حساس جلد رکھنے والے افراد میں ردعمل کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ ایکسپائرڈ مصنوعات، ناقص معیار کے میک اپ برش اور غیر صاف ستھرے آلات بھی جلدی انفیکشنز کا باعث بن سکتے ہیں۔
بعض بیوٹی مصنوعات میں خوشبو، پریزرویٹوز یا سخت کیمیکل شامل ہوتے ہیں جو مسلسل استعمال سے جلد کو خشک، کمزور یا قبل از وقت عمر رسیدہ دکھا سکتے ہیں۔
ماہرینِ جلد مشورہ دیتے ہیں کہ کسی بھی نئی کاسمیٹک مصنوعات کے استعمال سے پہلے پیچ ٹیسٹ ضرور کیا جائے۔ پروڈکٹ کو پہلے جلد کے ایک چھوٹے حصے پر آزما کر ردعمل کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔اس کے علاوہ صرف معیاری اور رجسٹرڈ مصنوعات خریدنے، ایکسپائری تاریخ چیک کرنے اور سونے سے پہلے میک اپ مکمل طور پر صاف کرنے کی بھی ہدایت کی جاتی ہے۔
اگر کسی کاسمیٹک پروڈکٹ کے استعمال کے بعد جلد پر جلن، خارش یا سوجن محسوس ہو تو فوراً اس کا استعمال بند کر دینا چاہیئے ۔ متاثرہ جگہ کو صاف پانی سے دھوئیں اور علامات برقرار رہنے کی صورت میں ماہرِ جلد سے رجوع کریں۔شدید الرجی، سانس لینے میں دشواری یا چہرے کی شدید سوجن کی صورت میں فوری طبی امداد ضروری ہو سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: گرمی میں بار بار نہانا فائدہ یا نقصان؟ ماہرینِ جلد کی اہم وارننگ
یہ بھی پڑھیں: گرمی میں ایئر کولر حبس کیوں کرتا ہے؟






