لاہور (پاک تر ک نیوز )برطانوی راج کے دور میں 1913 میں قائم ہونے والا نئی دہلی کا 113 سالہ تاریخی دہلی جم خانہ کلب اپنے وجود کے سب سے بڑے بحران سے دوچار ہو گیا ، دہلی میں جمخانہ کلب کی زمین سرکاری تحویل میں واپس آ گیا
ڈان نیوز کےمطابق دہلی جمخانہ کلب 1913 میں قائم ہوا تھا۔ یہ برطانوی فوجی افسران اور نوآبادیاتی اشرافیہ کے لیے بنایا گیا تھا، بعد ازاں اس کی رکنیت بیوروکریٹس، سیاست دانوں اور بااثر طبقے کو منتقل ہو گئی۔ لیکن اس تمام تاریخی حیثیت اور اثر و رسوخ کے باوجود کلب خود کو قانون سے نہیں بچا سکا۔گزشتہ ہفتے بھارتی حکومت نے کلب کو 5 جون تک زمین خالی کرنے کا حکم دیا تھا ،۔ حکومت نے کلب کی لیز میں موجود ایک شق کا حوالہ دیتے ہوئے عوامی مفاد کو بنیاد بنایا اور باضابطہ نوٹس جاری کیا ۔کلب نے فیصلے کو عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان کر رکھا ہے
دوسری جانب پاکستان میں لاہور جمخانہ بھی اسی سال 1913 میں قائم ہوا تھا۔ یہ نہ صرف دہلی جمخانہ سے زیادہ شاندار سمجھا جاتا ہے بلکہ ایسی قیمتی زمین پر واقع ہے جس کی مالیت اربوں روپے بنتی ہے۔ اس کے باوجود لاہور جمخانہ کو زمین خالی کرنے کا کوئی نوٹس جاری نہیں کیا گیا۔تو آخر دونوں کلبوں کے ساتھ مختلف سلوک کیوں کیا گیا؟
لاہور جمخانہ ایسی سرکاری زمین پر قائم ہے جس کے گرد مال روڈ، جیل روڈ اور ظفر علی روڈ واقع ہیں۔ یہ پنجاب کے مہنگے ترین علاقوں میں شمار ہوتا ہے۔ کلب کی لیز 1913 میں برطانوی دورِ حکومت میں دی گئی ، بعد ازاں 1921، 1960 اور پھر 1996 میں توسیع کی گئی۔ 1996 میں لیز کی مدت ختم ہونے سے پانچ سال قبل ہی اسے مزید 50 برس کے لیے بڑھا دیا گیا، جس کے تحت کلب کو 2000 سے 2050 تک زمین استعمال کرنے کا حق حاصل ہے۔
لاہور جمخانہ کا مرکزی رقبہ 112 ایکڑ پر مشتمل ہے، ریکارڈ کے مطابق کلب کے زیرِ استعمال زمین میں 3 کنال 16 مرلے اضافی اراضی بھی شامل ہیں، جو سرکاری ریکارڈ سے زائد ہیں۔ یہ ایک معمولی تجاوز تصور کی جاتی رہی، جس پر اب توجہ دی جا رہی ہے۔مگر معاملہ صرف اتنا نہیں۔ باغِ جناح کے اندر بھی جمخانہ تقریباً ساڑھے تین ایکڑ اراضی پر ایک خصوصی کرکٹ گراؤنڈ استعمال کر رہا ہے، جو محکمہ زراعت کی ملکیت ہے۔ یہ زمین کبھی بھی اصل لیز کا حصہ نہیں رہی، نہ اس کے لیے کوئی سرکاری گرانٹ موجود ہے اور نہ ہی اس کا کوئی کرایہ ادا کیا جاتا ہے۔
مرکزی اراضی کے عوض کلب سالانہ صرف 5 ہزار روپے کرایہ ادا کرتا ہے۔ یہ رقم فی کنال نہیں بلکہ پورے 112 ایکڑ رقبے کے لیے ہے۔ یعنی ماہانہ تقریباً 417 روپے، یا فی کنال پچاس پیسے سے بھی کم۔ پاکستان کی قیمتی ترین زمینوں میں سے ایک کے لیے یہ کرایہ انتہائی معمولی سمجھا جاتا ہے۔سرکاری تخمینوں کے مطابق اس زمین کی موجودہ مالیت تقریباً 218 ارب روپے ہے۔ اگر مارکیٹ ویلیو کے مطابق کرایہ مقرر کیا جائے تو سالانہ کرایہ تقریباً 4.36 ارب روپے بنتا ہے۔ حتیٰ کہ حکومت پنجاب کی 2023 کی پالیسی کے تحت اگر کلبوں کو مارکیٹ ریٹ کا صرف دس فیصد کرایہ بھی دینا ہو تو یہ رقم تقریباً 40 کروڑ روپے سالانہ بنتی ہے، جبکہ جمخانہ اب بھی صرف 5 ہزار روپے سالانہ ادا کرتا ہے۔
کلب نے پنجاب اسمبلی میں جمع کرائے گئے اپنے جواب میں تسلیم کیا کہ اس کی بیشتر عمارتیں اصل لیز کے بعد تعمیر کی گئیں، حالانکہ لیز کے مطابق ہر نئی تعمیر کے لیے حکومتی منظوری لازمی تھی۔گزشتہ برسوں میں کلب نے مرکزی کلب ہاؤس، گالف کلب ہاؤس، سوئمنگ پول، دو گیسٹ بلاکس، ہیلتھ کلب، انتظامی بلاک، مسجد اور 2012 میں ایک کیفے تعمیر کیا۔ تاہم بورڈ آف ریونیو کی جانچ پڑتال میں ان تعمیرات کی منظوری کا کوئی ریکارڈ نہیں ملا۔
لاہور کے جمخانہ کلب نے اپنا علامتی کرایہ 5 ہزار روپے بھی باقاعدگی سے ادا نہیں کیا۔ کلب کا کہنا ہے اسے سرکاری خزانے سے کوئی مالی امداد نہیں ملتی، مگر سابق صدر ضیاء الحق سے سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف کے دور تک کلب کو کروڑوں روپے دیئے گئے









