لاہور( پاک ترک نیوز) قومی کرکٹ ٹیم کے اوپنر فخر زمان نے کہا ہے کہ وہ مکمل طور پر فٹ ہو چکے ہیں، بیٹنگ کا آغاز کر دیا ہے اور آئندہ نیشنل چیمپئنز کپ سے دوبارہ ایکشن میں نظر آئیں گے، جبکہ ان کی تمام تیاریاں 2027 کے ورلڈ کپ کو مدنظر رکھ کر جاری ہیں۔
لاہور میں نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں وائٹ بال کیمپ کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے فخر زمان نے کہا کہ گزشتہ دو سے تین ماہ سے جاری کیمپ کھلاڑیوں کے لیے انتہائی مفید ثابت ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق اکیڈمی میں ان تکنیکی اور فنی خامیوں پر کام کیا گیا جن پر میچز کے دوران توجہ دینا ممکن نہیں ہوتا۔
انہوں نے کہا کہ ورلڈ کپ میں ابھی کافی وقت باقی ہے، اس لیے کھلاڑیوں کو اپنی صلاحیتوں کو مزید نکھارنے اور کمزوریوں پر قابو پانے کا بہترین موقع مل رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کئی ایسے نوجوان کھلاڑی بھی کیمپ میں اپنی صلاحیتوں کا اظہار کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں جو پہلے ٹیم مینجمنٹ کی نظروں میں نہیں تھے۔
فخر زمان نے قومی ٹیم کی حالیہ کارکردگی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ جب ٹیم کامیاب نہیں ہوتی تو تنقید بھی زیادہ ہوتی ہے، تاہم پاکستان کے فاسٹ باؤلرز بے پناہ صلاحیتوں کے مالک ہیں اور ہر ٹیم پر مشکل وقت آتا ہے، اس لیے اچھے مستقبل کی امید رکھنی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ کسی بھی ناکامی کا ذمہ دار صرف مینجمنٹ، بورڈ یا کوچز کو قرار دینا درست نہیں۔ ہر کھلاڑی کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ ہر میچ میں بہترین کارکردگی دکھائے، لیکن بین الاقوامی کرکٹ کا دباؤ مختلف ہوتا ہے۔ کبھی اچھا شاٹ بھی کیچ بن جاتا ہے اور کبھی ایج لگنے کے باوجود گیند باؤنڈری تک پہنچ جاتی ہے، اس لیے کرکٹ میں قسمت بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔
فخر زمان نے نوجوان کرکٹرز کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ صرف پی ایس ایل کے ایک یا دو میچوں کی کارکردگی کی بنیاد پر کسی کھلاڑی کو غیر معمولی قرار نہیں دینا چاہیے، کیونکہ لیگ اور بین الاقوامی کرکٹ میں بہت فرق ہوتا ہے۔ ان کے مطابق نوجوان کھلاڑیوں کو معیار، تسلسل اور فارم برقرار رکھنی ہوگی تاکہ وہ قومی ٹیم میں اپنی جگہ مستقل بنا سکیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ اگر کوئی نوجوان وائٹ بال کرکٹ میں ان سے بہتر کارکردگی دکھا سکتا ہے تو وہ کل ہی قومی ٹیم میں آ جائے، کیونکہ ٹیم کی ضرورت ہر کھلاڑی کی ذاتی خواہش سے زیادہ اہم ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: محسن نقوی کی زیرصدارت پی ایس ایل انتظامیہ اور فرنچائز مالکان کا اجلاس
بیٹنگ آرڈر کے حوالے سے سوال پر فخر زمان نے کہا کہ اس بارے میں ٹیم مینجمنٹ سے بات ہوئی ہے، تاہم کچھ معاملات میڈیا پر نہیں بتائے جا سکتے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیم کے تمام کھلاڑی، کوچز اور مینجمنٹ ایک پیج پر ہیں اور سب کی ترجیح پاکستان کی کامیابی ہے۔
فخر زمان نے امید ظاہر کی کہ قومی ٹیم کا مشکل دور 2026 کے اختتام سے پہلے ختم ہو جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ جنوبی افریقہ کی باؤنس والی وکٹیں ان کی تکنیک کے لیے موزوں ہیں اور وہاں کھیلنے کی ان کی بہت اچھی یادیں وابستہ ہیں، جبکہ ان کی تمام توجہ 2027 کے ورلڈ کپ کی تیاریوں پر مرکوز ہے۔












