لاہور( پاک ترک نیوز) قومی کرکٹ ٹیم کے فاسٹ باؤلر نسیم شاہ نے کہا ہے کہ ہر کھلاڑی کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے ورک لوڈ کو مختلف فارمیٹس کے مطابق مینج کرے، جبکہ نئے کرکٹ سسٹم سے مثبت تبدیلیوں کی امید ہے۔
لاہور میں نیشنل کرکٹ اکیڈمی وائٹ بال کیمپ کے دوران نسیم شاہ نے کہا کہ امید ہے نئے سسٹم کے تحت فاسٹ باؤلرز سمیت تمام کھلاڑیوں کے ورک لوڈ کو بہتر انداز میں منظم کیا جائے گا تاکہ انجریز سے بچتے ہوئے بہتر کارکردگی دکھائی جا سکے۔
انہوں نے اعتراف کیا کہ بطور باؤلنگ یونٹ قومی ٹیم کی حالیہ کارکردگی توقعات کے مطابق نہیں رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ دور میں ون ڈے کرکٹ میں 300 سے زائد اور ٹی ٹوئنٹی میں 200 سے زیادہ رنز معمول بنتے جا رہے ہیں، جبکہ کرکٹ کے بدلتے رجحانات، پچز اور کنڈیشنز نے فاسٹ باؤلرز کے لیے نئے چیلنجز پیدا کر دیے ہیں۔
نسیم شاہ نے کہا کہ صرف رفتار ہی کافی نہیں بلکہ مؤثر باؤلنگ کے لیے لائن اینڈ لینتھ بھی اتنی ہی اہم ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں 140 کلومیٹر فی گھنٹہ سے زائد رفتار سے باؤلنگ کر چکے ہیں، تاہم جدید کرکٹ میں کامیابی کے لیے رفتار کے ساتھ درست حکمت عملی بھی ضروری ہے۔
انہوں نے اپنی فٹنس کے حوالے سے کہا کہ حالیہ عرصے میں انہیں جسمانی فٹنس پر بھرپور کام کرنے کا موقع ملا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی انجریز زیادہ تر میدان میں کھیل کے دوران ہوئیں، اس لیے انہیں صرف فٹنس سے جوڑنا درست نہیں، کیونکہ کھیل کے دوران ہونے والی کئی انجریز کھلاڑی کے اختیار میں نہیں ہوتیں۔
نسیم شاہ نے اپنے بھائیوں حنین شاہ اور عبید شاہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ تینوں نے گھر سے کرکٹ کا آغاز کیا اور اگر مستقبل میں پاکستان کی نمائندگی ایک ساتھ کرنے کا موقع ملا تو یہ ان کے لیے باعثِ فخر ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: ورلڈ کپ 2027 ہدف، مکمل فٹ ہوں اور کم بیک کے لیے تیار ہوں: فخر زمان
قومی فاسٹ باؤلر نے کہا کہ وہ تسلیم کرتے ہیں کہ ان کی حالیہ کارکردگی اس معیار کی نہیں رہی جس کی ان سے توقع کی جاتی ہے۔ ان کے مطابق جب کھلاڑی کی کارکردگی اچھی نہ ہو تو اس کی کوئی بھی کوشش نمایاں نہیں ہوتی، لیکن اچھی پرفارمنس ہر تنقید کا بہترین جواب بن جاتی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ان کے لیے کسی ایک فارمیٹ کا انتخاب ممکن نہیں۔ نسیم شاہ کا کہنا تھا کہ انہیں فرسٹ کلاس، ون ڈے یا ٹی ٹوئنٹی، جس بھی فارمیٹ میں موقع ملا وہ پوری محنت اور جذبے کے ساتھ پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔











