دنیا کے سب سے بڑے تجرباتی نیوکلیئر فیوژن منصوبے آئی ٹی ای آر میں 330 ٹن وزنی سپر کنڈکٹنگ مقناطیس کا اہم تجربہ کامیابی سے مکمل کرلیا گیا۔ یہ مقناطیس انتہائی گرم پلازما کو کنٹرول کرنے کے لیے استعمال ہوگا۔منصوبے کے انجینئرز نے ٹورائیڈل فیلڈ کوائل نمبر 17 کو منفی 269 ڈگری سینٹی گریڈ تک ٹھنڈا کرکے 34 ہزار ایمپیئر کرنٹ پر چلایا، جو اس کی مقررہ آپریٹنگ صلاحیت 68 ہزار ایمپیئر کا نصف ہے۔
تجربے کے دوران مقناطیس پر برقی مقناطیسی دباؤ کے اثرات اور اس کی ساخت میں ہونے والی تبدیلیوں کا جائزہ لیا گیا۔ کامیاب آزمائش کے بعد 30 اکتوبر کو اسے ٹیسٹنگ مرکز سے نکال کر خصوصی ٹرانسپورٹ فریم پر منتقل کردیا گیا۔اب اسے عارضی اسٹوریج کے بعد آئی ٹی ای آر کے اسمبلی ہال پہنچایا جائے گا، جہاں اسے فیوژن ری ایکٹر کے پلازما چیمبر میں نصب کرنے کی تیاری کی جائے گی۔
آئی ٹی ای آر کا مقناطیس ٹیسٹنگ مرکز ری ایکٹر میں تنصیب سے پہلے سپر کنڈکٹنگ مقناطیسوں، کولنگ سسٹم، ویکیوم، بجلی کی فراہمی اور کنٹرول نظام کی جانچ کے لیے قائم کیا گیا ہے۔اس مرکز میں پہلا تجرباتی مرحلہ مئی 2026 میں ٹورائیڈل فیلڈ کوائل نمبر 7 کے ساتھ شروع ہوا تھا، جسے 10 ہزار ایمپیئر کرنٹ پر آزمایا گیا۔ اس دوران سپر کنڈکٹنگ نظام کی کارکردگی اور بجلی کی ترسیل میں ممکنہ خرابی کی نشاندہی کرنے والے نظام کا بھی جائزہ لیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: مولانا فضل الرحمان کے صاحبزادے اسعد محمود کی 10نومبر کو نیب میں طلبی
اس کامیاب تجربے کو آئی ٹی ای آر کے مربوط مقناطیسی نظام کو فعال بنانے کی تیاری میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔











