اسلام آباد(پاک ترک نیوز)ملک میں درآمدی گندم کی آمد کے باوجود عوام کو آٹے کی قیمتوں میں ریلیف نہ مل سکا ۔ رپورٹ کے مطابق درآمدی گندم آنے سے اوپن مارکیٹ میں گندم کی قیمت 140 روپے سے کم ہوکر 130 روپے فی کلو ہوگئی، تاہم آٹے کی مختلف اقسام اور روٹی کے نرخ بدستور برقرار ہیں۔
رپورٹ کے مطابق 28 اکتوبر کو 51 ہزار ٹن گندم لے کر پہلا جہاز بندرگاہ پہنچا، جبکہ 58 ہزار 132 ٹن گندم کا ایک اور جہاز بھی کراچی پہنچنے والا ہے۔ تھوک فروشوں کے مطابق گندم کی اوسط قیمت 132 روپے فی کلو ہے، جبکہ فلور ملز مالکان 136 سے 137 روپے فی کلو نرخ بتا رہے ہیں۔
فلور ملز نے آٹے کی مختلف اقسام کی قیمتوں میں 20 روپے فی کلو تک اضافہ کیا تھا، تاہم درآمدی گندم کی آمد سے قبل قیمتوں میں کچھ کمی کی گئی۔ اس وقت آٹا نمبر ڈھائی 156 روپے، میدہ 168 روپے اور فائن آٹا 171 روپے فی کلو فروخت ہو رہا ہے۔ اکتوبر کے پہلے ہفتے میں یہی نرخ بالترتیب 161، 173 اور 176 روپے تھے۔
قیمتوں میں کمی کے باوجود تندوروں پر روٹی، نان اور دیگر اشیا کے نرخ کم نہیں ہوئے۔ چپاتی 20 روپے، نان 30 سے 35 روپے، شیرمال اور تافتان 100 سے 110 روپے جبکہ کلچہ 90 سے 100 روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔
تندور مالکان کا کہنا ہے کہ ایل پی جی کی قیمت 500 سے 550 روپے فی کلو تک پہنچنے کے باعث آٹے کی قیمت میں کمی کا فائدہ ختم ہوگیا ہے۔
دوسری جانب پرچون مارکیٹ میں آٹا نمبر ڈھائی 170 سے 180 روپے، میدہ 185 سے 190 روپے جبکہ فائن آٹا بھی 185 سے 190 روپے فی کلو فروخت ہو رہا ہے۔
29 اکتوبر کو ختم ہونے والے حساس قیمتوں کے اشاریے کے تحت کراچی میں 20 کلو آٹے کا تھیلا 3 ہزار 540 روپے تک فروخت ہو رہا ہے، جبکہ ملک کے دیگر علاقوں میں اس کی اوسط قیمت 3 ہزار 200 روپے ہے۔ حیدرآباد میں 20 کلو تھیلے کی قیمت 3 ہزار 360 سے 3 ہزار 400 روپے تک ہے۔
گندم کے 10 کلو تھیلے کی قیمت سکھر میں ایک ہزار 488 روپے، پشاور میں ایک ہزار 469 روپے اور حیدرآباد میں ایک ہزار 453 روپے ریکارڈ کی گئی۔ کراچی میں یہی تھیلا ایک ہزار 440 روپے میں دستیاب ہے، جبکہ سرگودھا میں سب سے کم قیمت ایک ہزار 223 روپے ہے۔
فائن آٹے کی قیمت بھی حیدرآباد اور کوئٹہ میں 187 روپے فی کلو، کراچی میں 185 روپے اور اسلام آباد میں 183 روپے ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مولانا فضل الرحمان کے صاحبزادے اسعد محمود کی 10نومبر کو نیب میں طلبی
تاجروں کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے 7 لاکھ 50 ہزار ٹن گندم درآمد کرنے کا فیصلہ طلب اور رسد کے فرق کو پورا کرنے کے لیے ناکافی ہوسکتا ہے، کیونکہ سندھ اور پنجاب کی نئی فصل مارچ سے مئی کے دوران آئے گی۔ ان کا مطالبہ ہے کہ نجی شعبے اور فلور ملز کو بھی گندم درآمد کرنے کی اجازت دی جائے تاکہ آٹے کی قیمتوں میں استحکام لایا جاسکے۔ تھوک فروش رؤف ابراہیم کے مطابق 50 ہزار روپے سے کم آمدن والے افراد کے لیے گھریلو اخراجات پورے کرنا مشکل ہوگیا ہے اور ان کی تقریباً تمام آمدن خوراک پر خرچ ہو رہی ہے







