نئی دہلی ( پاک ترک نیوز) بھارت نے مقامی سطح پر تیار کیے جانے والے چھوٹے جوہری ری ایکٹروں کے منصوبے کو تیز کرنے کا اعلان کرتے ہوئے 2033 تک کم از کم پانچ چھوٹے جوہری ری ایکٹر فعال کرنے کا ہدف مقرر کر دیا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد بجلی کی پیداوار میں تیل، گیس اور کوئلے جیسے ایندھن پر انحصار کم کرنا اور صاف توانائی کو فروغ دینا ہے۔
بھارتی حکومت کے مطابق بھابھا ایٹمی تحقیقاتی مرکز 220 میگاواٹ صلاحیت کے بھارت چھوٹے جوہری ری ایکٹر، 55 میگاواٹ کے ایک اور ری ایکٹر اور ایسا بلند درجۂ حرارت رکھنے والا گیس سے چلنے والا ری ایکٹر تیار کر رہا ہے، جو مستقبل میں ہائیڈروجن کی پیداوار کے لیے بھی استعمال کیا جا سکے گا۔
ایٹمی توانائی کے وزیر جتیندر سنگھ نے پارلیمنٹ کو تحریری جواب میں بتایا کہ مہاراشٹر کے علاقے تاراپور کو 220 اور 55 میگاواٹ کے منصوبوں کے لیے منتخب کر لیا گیا ہے۔
بھارت، جو صاف توانائی کے استعمال میں اضافہ کرنا چاہتا ہے، گزشتہ سال جوہری بجلی کے شعبے میں ملکی اور غیر ملکی نجی کمپنیوں کو بھی سرمایہ کاری کی اجازت دے چکا ہے۔
حکومت کا ہدف ہے کہ موجودہ تقریباً 8.8 گیگاواٹ جوہری بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت کو بڑھا کر 2047 تک 100 گیگاواٹ تک پہنچایا جائے، جبکہ 2031-32 تک یہ صلاحیت تقریباً 22 گیگاواٹ تک لے جانے کا منصوبہ ہے، جس میں چھوٹے جوہری ری ایکٹر اہم کردار ادا کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت کے سب سے بڑے جوہری پاور پلانٹ کا حساس ڈیٹا ڈارک ویب پر لیک
دنیا کے کئی ممالک، جن میں امریکہ، روس اور جنوبی کوریا شامل ہیں، بھی ایسے چھوٹے جوہری ری ایکٹر تیار کر رہے ہیں کیونکہ انہیں صنعتوں کو محفوظ، مسلسل اور کم آلودگی والی توانائی فراہم کرنے کا مؤثر ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔
بھارت میں اس وقت سرکاری ادارہ نیوکلیئر پاور کارپوریشن آف انڈیا ہی جوہری بجلی گھروں کا واحد آپریٹر ہے، جس کا ہدف مستقبل میں 50 گیگاواٹ صلاحیت حاصل کرنا ہے، جبکہ سرکاری بجلی پیدا کرنے والی کمپنی این ٹی پی سی بھی 30 گیگاواٹ جوہری بجلی پیدا کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔
اس شعبے میں نجی سرمایہ کاری بھی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ اڈانی گروپ، ٹاٹا پاور، ریلائنس انڈسٹریز اور دیگر بڑی کمپنیاں بھی بھارت کے جوہری توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری میں دلچسپی ظاہر کر چکی ہیں۔












