واشنگٹن ( پاک ترک نیوز) امریکی کمپنی اینٹارس نیوکلیئر نے دفاعی اور خلائی استعمال کے لیے تیار کیے جانے والے چھوٹے جوہری ری ایکٹرز کے لیے خصوصی جوہری ایندھن حاصل کرنے کا معاہدہ کرلیا۔اینٹارس نے اسٹینڈرڈ نیوکلیئر کے ساتھ کثیر سالہ معاہدہ کیا ہے، جس کے تحت 2035 تک کمپنی کو 8 میٹرک ٹن تک ٹرائیسو ایندھن فراہم کیا جائے گا۔ٹرائیسو انتہائی چھوٹے جوہری ایندھن کے ذرات پر مشتمل ہوتا ہے، جنہیں کئی حفاظتی تہوں میں بند کیا جاتا ہے۔ اس ڈیزائن کا مقصد انتہائی سخت حالات میں تابکار مواد کو محفوظ رکھنا ہے۔
یہ ایندھن اینٹارس کے مائیکرو ری ایکٹرز میں استعمال ہوگا، جنہیں ایسی جگہوں پر قابلِ اعتماد بجلی فراہم کرنے کے لیے تیار کیا جارہا ہے جہاں روایتی بجلی کے ذرائع پہنچانا مشکل ہے۔کمپنی کے مطابق ان ری ایکٹرز کو امریکی فوجی تنصیبات، دور دراز بنیادی ڈھانچے اور خلائی مشنز میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔اینٹارس کا مارک زیرو مائیکرو ری ایکٹر 2026 میں امریکی محکمہ توانائی کے ری ایکٹر پائلٹ پروگرام کے تحت ابتدائی جوہری عمل شروع کرچکا ہے۔
کمپنی کا ہدف 2027 میں جدید جوہری ری ایکٹر سے بجلی کی پیداوار شروع کرنا جبکہ 2028 میں امریکی فوجی تنصیبات پر ابتدائی ری ایکٹرز نصب کرنا ہے۔ماہرین کے مطابق جدید جوہری ری ایکٹرز کی تیاری میں صرف ری ایکٹر بنانا ہی کافی نہیں بلکہ خصوصی ایندھن کی مسلسل فراہمی، پیداواری صلاحیت اور متعلقہ انفراسٹرکچر بھی ضروری ہے۔اسٹینڈرڈ نیوکلیئر کا کہنا ہے کہ وہ امریکا میں صنعتی پیمانے پر ٹرائیسو ایندھن تیار کرنے والی واحد کمپنی ہے اور بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے کے لیے پیداواری صلاحیت میں اضافہ کررہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کائنات کی نئی آنکھ خلا میں جانے کو تیار
اینٹارس کے مطابق کمپنی 2023 میں قائم ہوئی اور اب تک 600 ملین ڈالر سے زائد سرمایہ حاصل کرچکی ہے۔












