واشنگٹن (پاک ترک نیوز) امریکا نے فوجی اڈوں پرجوہری مائکرو ری ایکٹرز کی منظوری دے دی ۔بجلی بند ہوئی بھی تو جنگ جاری رہے گی ،پینٹا گون کا نیا پلان سامنے آ گیاکیا پینٹا گون کا فیصلہ دنیا کی جنگ حکمت علی کو ہمیشہ کیلئے بدل دے گا؟۔امریکا نے بجلی کے خطرات ،سائبر حملوں ،قدرتی آفات ،دہشت گردی اور دیگر خطرات کے تناظر میں یہ فیصلہ کیا۔
سائبر حملوں کے باعث بجلی کے نظام کو تباہ کرنے کا خدشہ ہے ۔قدرتی آفات پورے گرڈ کو بند کر سکتی ہیں۔دشمن انفراسٹرکچر کو نشانہ بنا سکتا ہے،اسی لیے امریکہ اب اپنے فوجی اڈوں کو مکمل طور پر خودمختار توانائی پر منتقل کر رہا ہے۔
پہلے مرحلے میں دو انتہائی حساس فوجی اڈوں پر نیوکلیئر مائیکرو وی ایکٹرز نصب کیے جائیں گےیہ ری ایکٹرز عام پاور پلانٹس کی طرح نہیں ہوں گے، بلکہ چھوٹے، موبائل اور انتہائی طاقتور ہوں گے، جو بغیر کسی بیرونی بجلی کے سالوں تک خود چل سکتے ہیں۔
امریکی فضائیہ کے مطابق کولوراڈو میں بکلی اسپیس فورس بیس اور مونٹانا میں مالمسٹروم ایئر فورس بیس کو ایڈوانسڈ نیوکلیئر پاور فار انسٹالیشنز پروگرام کیلئے منتخب کیا گیا ہے۔
بکلی اسپیس فورس بیسڈ دشمن کے میزائل حملوں کا پہلے پتہ لگاتا ہے ،جبکہ مونٹانا بیس پر ایٹمی میزائل ہر وقت تیار حالت میں رہتے ہیں ،یعنی اگر یہاں بجلی بند ہو جائے، تو امریکہ کی دفاعی طاقت خطرے میں پڑ سکتی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسی کے مطابق دو ہزار اٹھائیس تک فوجی اڈوں پر خو نیوکلیئر ری ایکٹر فعال کیے جائیں گے
نیوکلیئر مائیکرو وی ایکٹرز سائز میں چھوٹے ہونے کی وجہ سے ٹرک یا جہاز کے ذریعے منتقل کیے جا سکتے ہیں ان سے ایک سے پچاس میگا واٹ بجلی پیدا ہو سکتی ہے ،یہ دس سال یا اس سے زائد عرصہ تک بغیر رکےچل سکتے ہیں،مطلب اگر پورا ملک بجلی سے محروم ہو جائے تو تب بھی یہ بیسز چلتی رہیں گی۔
امریکی نیوکلیئر ری ایکٹر کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کر کے امریکا نے ثابت کر دیا ہے کہ ایٹمی بجلی جنگ کے دوران کہیں بھی پہنچائی جا سکتی ہے۔
اگر یہ منصوبہ کامیاب ہو گیا تو امریکی فوج کبھی بھی بجلی کے بحران کا شکار نہیں ہو گی،ایٹمی اور اسپیس سسٹمز ہر وقت فعال رہیں گے۔
امریکی فیصلے نے ثابت کر دیا ہے کہ مستقبل کی جنگیں صرف ہتھیاروں سے نہیں، انرجی کنٹرول سے جیتی جائیں گی۔اگر یہ کامیاب ہو گیا تو دنیا کے دوسرے ممالک بھی یہی ماڈل اپنائیں گے












