اسلام آباد( پاک ترک نیوز ) پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کے 16 طیارے تاحال گراؤنڈ ہونے کا انکشاف ہو ا ہے، جبکہ قومی ایئرلائن اس وقت صرف 17 سے 18 طیاروں کے ذریعے پروازیں چلا رہی ہے۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے نجکاری نے پی آئی اے کے فضائی بیڑے اور سروس کے معیار پر تشویش کا اظہار کردیا۔کمیٹی کو بریفنگ میں حکام نے بتایا کہ ماضی میں پی آئی اے کے طیاروں کی اوسط عمر 21 سے 22 سال تھی۔ ایئرلائن کو ایک بوئنگ ڈریم لائنر موصول ہوچکا ہے، جبکہ دوسرا طیارہ جنوری میں ملنے کی توقع ہے۔ دونوں طیاروں کی عمر تقریباً 7 سے 8 سال ہے۔
حکام کے مطابق گراؤنڈ طیاروں کو دوبارہ آپریشنل کرنے کی کوششیں جاری ہیں اور جہاں موزوں انجن دستیاب ہیں، وہاں مرمت کا کام کیا جارہا ہے۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ پی آئی اے کی لندن کے لیے روزانہ پروازیں بحال ہوچکی ہیں، جبکہ مانچسٹر اور برمنگھم کے لیے پروازیں شروع کرنے کی توقع ہے۔ کراچی سے لندن کی پروازیں مارچ 2027 میں شروع کرنے کا شیڈول ہے۔سیکرٹری نجکاری کمیشن نے بتایا کہ لندن جانے والی پروازوں میں مسافروں کو کھانا فراہم کیا جارہا ہے اور بریانی و پلاؤ کو مسافروں کی جانب سے مثبت ردعمل ملا ہے۔قائمہ کمیٹی کی رکن سحر کامران نے ٹیکس ریلیف کے باوجود پی آئی اے کی کارکردگی اور سروس کے معیار پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ نجی ایئرلائنز بہتر خدمات فراہم کرنے کے ساتھ وقت پر پروازیں چلا رہی ہیں، جبکہ پی آئی اے کی کارکردگی تسلی بخش نہیں۔ انہوں نے کمیٹی کو مطلوبہ رپورٹ فراہم نہ کیے جانے پر بھی تشویش ظاہر کی۔اس پر سیکرٹری نجکاری کمیشن نے وضاحت کی کہ پی آئی اے کو صرف نئے طیاروں کی خریداری پر سیلز ٹیکس سے استثنیٰ دیا گیا ہے، نجکاری کے بعد کوئی دوسری ٹیکس چھوٹ نہیں دی گئی۔
اجلاس میں وزارتوں کی جانب سے پارلیمانی سوالات کے جوابات اور مطلوبہ دستاویزات فراہم نہ کرنے کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ فاروق ستار نے کہا کہ بعض وزارتوں کی جانب سے جوابات موصول نہیں ہوئے اور متعلقہ سوالات کے سامنے صرف ’’جواب کا انتظار ہے‘‘ درج ہے۔سحر کامران نے کہا کہ زیر بحث معاملات سے متعلق دستاویزات بھی اجلاس سے صرف ایک شام پہلے فراہم کی گئیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ اجلاس میں مطلوبہ کورم بھی پورا نہیں تھا اور حکومتی اتحاد کا کوئی رکن موجود نہیں تھا۔نتاشا دولتانہ نے اجلاس غیر رسمی طور پر چلانے پر اعتراض کیا، جبکہ فاروق ستار کا کہنا تھا کہ ارکان زوم کے ذریعے بھی شرکت نہیں کررہے، ایسی صورت حال میں کمیٹی کی کارروائی آگے نہیں بڑھ سکتی۔












