اسلام آباد ( پاک ترک نیوز) بانی پی ٹی آئی کو شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل نہ کیے جانے پر تحریک انصاف نے سپریم کورٹ میں توہینِ عدالت کی درخواست دائر کردی۔عزیر بھنڈاری اور سلمان اکرم راجہ کی جانب سے دائر درخواست میں وزیراعظم شہباز شریف، وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات، چیف کمشنر اسلام آباد، سیکریٹری داخلہ، آئی جی جیل خانہ جات پنجاب اور سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو فریق بنایا گیا ہے۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے 18 اگست 2026 کے حکم کی مبینہ خلاف ورزی کی گئی، لہٰذا ذمہ داران کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی شروع کی جائے۔پی ٹی آئی نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو فوری طور پر شفا انٹرنیشنل اسپتال اسلام آباد منتقل کیا جائے اور وہاں ان کا طبی معائنہ کرایا جائے۔
درخواست میں مزید استدعا کی گئی ہے کہ مبینہ توہینِ عدالت کے مرتکبین کو شوکاز نوٹس جاری کیے جائیں، ذاتی حاضری کا حکم دیا جائے اور انہیں توہینِ عدالت کا مرتکب قرار دے کر قانون کے مطابق سزا دی جائے۔درخواست گزاروں کے مطابق وفاقی وزیر قانون نے بانی پی ٹی آئی کی اسپتال منتقلی سے متعلق عدالتی حکم کو قانونی دائرہ کار سے باہر قرار دیا اور نظرثانی درخواست دائر کرنے کا بھی کہا۔درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ڈاکٹر عظمیٰ اور ڈاکٹر فیصل سلطان کو اڈیالہ جیل میں گھنٹوں انتظار کروایا گیا، جبکہ انہیں بانی پی ٹی آئی کے مبینہ علاج سے متعلق معلومات بھی فراہم نہیں کی گئیں۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ڈاکٹر عظمیٰ اور ڈاکٹر فیصل سلطان کو اڈیالہ جیل میں گھنٹوں انتظار کروایا گیا، جبکہ انہیں بانی پی ٹی آئی کے مبینہ علاج سے متعلق معلومات بھی فراہم نہیں کی گئیں۔درخواست کے مطابق بانی پی ٹی آئی کو شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کے بجائے پمز اسپتال لے جایا گیا، جہاں میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کے بجائے صرف آنکھوں کا معائنہ اور علاج کیا گیا۔پی ٹی آئی نے عدالتی حکم پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے عدالتی افسر تعینات کرنے یا لوکل کمیشن مقرر کرنے کی بھی استدعا کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بانی پی ٹی آئی کے طبی معائنے کا پمز انتظامیہ نے اعلامیہ جاری کر دیا
خالد یوسف چوہدری اور سابق وزیراعظم آزاد کشمیر عبدالقیوم نیازی بھی درخواست دائر کرنے کے موقع پر سپریم کورٹ میں موجود تھے۔












