لاہور( پاک ترک نیوز) جسے ہم خالی خلا سمجھتے ہیں، کیا وہ حقیقت میں خالی ہے ہی نہیں؟کائنات کے ایک انتہائی پراسرار راز نے سائنسدانوں کو حیران کردیا ہے۔ ماہرین نے ایسے شواہد حاصل کیے ہیں جو اس خیال کو تقویت دیتے ہیں کہ بظاہر خالی خلا بھی روشنی کے سفر کو متاثر کرسکتا ہے۔
یہ کہانی ہے کائنات کے ایک ایسے راز کی، جس کا تصور تقریباً 90 سال پہلے پیش کیا گیا تھا۔
معروف ماہرِ طبیعیات ورنر ہائزن برگ کے نظریے کے مطابق خلا مکمل طور پر خالی نہیں، بلکہ کوانٹم سطح پر ایسے عارضی ذرات موجود ہوتے ہیں جو لمحاتی طور پر نمودار ہوتے اور پھر غائب ہوجاتے ہیں۔لیکن سوال یہ تھا۔۔۔کیا ان نظر نہ آنے والے ذرات کا کوئی عملی اثر بھی ہے؟سائنسدانوں نے اس سوال کا جواب تلاش کرنے کے لیے کائنات کے انتہائی طاقتور مقناطیسی میدان والے ایک عجیب ستارے کا رخ کیا۔اسے کہتے ہیں میگنیٹار۔۔۔
ایک ایسا نیوٹران ستارہ جس کا مقناطیسی میدان زمین سے کھربوں گنا زیادہ طاقتور ہوسکتا ہے۔محققین نے 1E 1547.0-5408 نامی میگنیٹار کا مشاہدہ کیا، جہاں انتہائی طاقتور مقناطیسی میدان روشنی کے رویے میں حیران کن تبدیلیاں پیدا کرسکتا ہے۔ناسا کی ایکس رے دوربین سمیت جدید خلائی اور زمینی دوربینوں سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا۔ریڈیو لہروں اور ایکس ریز کی پولرائزیشن کو دیکھا گیا تو سائنسدانوں کو ایسا سگنل ملا جو ایک خاص کوانٹم مظہر سے مطابقت رکھتا ہے۔اس مظہر کو کہا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چینی سائنسدانوں کا نیا کارنامہ، 420 کلومیٹر دور کوانٹم میموری کو باہم منسلک کرلیا
ویکیوم بائرِفرنجنس۔یعنی انتہائی طاقتور مقناطیسی میدان میں خلا کی کوانٹم خصوصیات روشنی کے سفر کے انداز کو متاثر کرسکتی ہیں۔سائنسدانوں کے مطابق میگنیٹار کی خاص گردش اور اس کے مقناطیسی میدان کی سمت نے انہیں اس مظہر کو دیکھنے کا غیر معمولی موقع فراہم کیا۔اگر مزید مشاہدات اور کمپیوٹر simulations نے ان نتائج کی تصدیق کردی تو یہ کوانٹم فزکس کی دنیا میں ایک تاریخی پیش رفت ہوسکتی ہے۔تقریباً 90 سال پہلے پیش کیے گئے نظریے کے حتمی ثبوت کی تلاش اب شاید اپنے اختتام کے قریب پہنچ چکی ہے۔یعنی۔۔۔ کائنات کا سب سے خالی نظر آنے والا حصہ، شاید حقیقت میں بالکل خالی نہیں












