اسلام آباد ( پاک ترک نیوز) جنگی حالات کے دوران آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے حکومت سے ایک کھرب 19 ارب روپے کی سبسڈی مانگ لی۔قیمتوں میں فرق کی مد میں آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے سبسڈی کلیمز کی رپورٹ قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکرٹریٹ میں پیش کردی گئی۔
رپورٹ کے مطابق حکومت اب تک آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو ڈیفرنشل کلیمز کی مد میں 53 ارب 88 کروڑ روپے ادا کرچکی ہے، جبکہ او ایم سیز کے مزید 66 ارب 49 کروڑ روپے کے کلیمز زیرِ التوا ہیں۔
رپورٹ میں اوگرا کی جانب سے سب سے زیادہ کلیمز کرنے والی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی فہرست بھی کمیٹی کو فراہم کردی گئی۔
دستاویز کے مطابق پاکستان اسٹیٹ آئل نے حکومت سے 24 ارب 22 کروڑ روپے کا کلیم کیا ہے، جبکہ گیس اینڈ آئل کمپنی نے 14 ارب 45 کروڑ روپے طلب کیے ہیں۔
پارکو گنور نامی او ایم سی نے 5 ارب 25 کروڑ روپے، اٹک پیٹرولیم نے 4 ارب 79 کروڑ روپے جبکہ وافی انرجی پاکستان نے 4 ارب 54 کروڑ روپے کے پرائس ڈیفرنشئیل کلیمز کیے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق گیس اینڈ آئل پاکستان کو ادائیگی کے معاملے پر کابینہ ڈویژن نے کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔
دوسری جانب فیولرز پیٹرولیم کے 32 کروڑ 13 لاکھ روپے مالیت کے کلیمز کو مؤخر کردیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم کی کسٹمز بانڈڈ ویئر ہاؤسز کا تین سالہ آزادانہ تھرڈ پارٹی آڈٹ کرانے کی ہدایت
حکام کے مطابق جنگی حالات کے دوران عالمی سطح پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے باعث حکومت نے قیمتوں کے فرق کو پورا کرنے کے لیے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو ادائیگیاں کیں۔












