نیو یارک ( پاک ترک نیوز) عالمی توانائی منڈی میں ایک بڑی پیشرفت سامنے آئی ہے۔ دنیا کے بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک میں شامل ایران کا خام تیل ایک بار پھر عالمی منڈی میں واپسی کے لیے تیار دکھائی دے رہا ہے، جس کے بعد تیل کی قیمتوں میں نمایاں ہلچل دیکھی جا رہی ہے۔
رپورٹس کے مطابق واشنگٹن اور تہران کے درمیان ہونے والے حالیہ مذاکرات کے بعد امریکا نے ایران کے لیے 60 روزہ عارضی لائسنس جاری کیا ہے۔ اس اقدام کے تحت ایرانی خام تیل، پیٹرولیم مصنوعات اور پیٹروکیمیکل مصنوعات کی پیداوار، ترسیل اور فروخت سے متعلق مخصوص لین دین کی اجازت دی گئی ہے۔
اس خبر کے سامنے آتے ہی عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں پر فوری اثرات مرتب ہوئے۔ تیل کی اضافی سپلائی کی توقع کے باعث خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی اور عالمی مارکیٹ میں سرمایہ کاروں نے بھی اس پیشرفت پر گہری نظر رکھنا شروع کر دی۔
ماہرین کے مطابق ایران کی واپسی سے عالمی سطح پر تیل کی رسد میں اضافہ ہوگا، جس سے سپلائی کا دباؤ کم ہو سکتا ہے اور خام تیل کی قیمتوں میں مزید نرمی آنے کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔
ایران کے پاس تقریباً 208 ارب بیرل خام تیل کے ذخائر موجود ہیں، جو دنیا کے مجموعی ثابت شدہ تیل ذخائر کا ایک بڑا حصہ سمجھے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی ایران عالمی توانائی منڈی میں متحرک کردار ادا کرتا ہے تو اس کے اثرات فوری طور پر قیمتوں میں محسوس کیے جاتے ہیں۔
صرف تیل ہی نہیں، قدرتی گیس کے شعبے میں بھی ایران ایک بڑی عالمی طاقت تصور کیا جاتا ہے۔ ملک کے پاس تقریباً 34 ٹریلین مکعب میٹر قدرتی گیس کے ذخائر موجود ہیں، جو عالمی توانائی مارکیٹ میں اس کی اہمیت کو مزید بڑھاتے ہیں۔
توانائی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایران کی تیل اور گیس کی برآمدات مزید بڑھتی ہیں تو عالمی منڈی میں توانائی کی فراہمی مستحکم ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں پر دباؤ برقرار رہنے کا امکان ہے۔
اب سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں یہ کمی پاکستان میں بھی پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مزید ریلیف کا باعث بنے گی؟ عوام کی نظریں اب آنے والے دنوں کے حکومتی فیصلوں اور عالمی مارکیٹ کی صورتحال پر مرکوز ہیں۔












