اسلام آباد ( پاک ترک نیوز) جو کچھ ہماری آنکھیں دیکھ سکتی ہیں، ضروری نہیں کہ وہی پوری دنیا ہو۔۔۔ہمارے اردگرد ایسی روشنی بھی موجود ہے جو انسانی آنکھ سے چھپی ہوئی ہےاب سائنسدانوں نے ایسی خاص عینک تیار کرلی ہے جو انسان کو انفراریڈ روشنی دیکھنے کے قابل بنا سکتی ہے۔یعنی وہ دنیا۔۔۔ جو آج تک ہماری آنکھوں سے پوشیدہ تھی، اب نظر آسکتی ہے۔
انسانی آنکھ عام طور پر تقریباً 400 سے 700 نینو میٹر تک کی روشنی دیکھ سکتی ہے۔
لیکن انفراریڈ روشنی اس حد سے باہر ہے۔۔۔اسی لیے ہم اسے براہِ راست نہیں دیکھ سکتے۔
سانپ، چمگادڑ اور بعض کیڑے مکوڑے انفراریڈ شعاعوں کو محسوس کرسکتے ہیں۔۔۔
لیکن انسان قدرتی طور پر اس صلاحیت سے محروم ہے۔اب بیجنگ انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے سائنسدانوں نے اس قدرتی حد کو ٹیکنالوجی کے ذریعے عبور کرنے کی کوشش کی ہے۔
سائنسدانوں نے ایسی ہلکی پھلکی عینک تیار کی ہے جو انفراریڈ روشنی کو پکڑ کر اسے ایسی روشنی میں تبدیل کرتی ہے جسے انسانی آنکھ دیکھ سکتی ہے۔
اس ٹیکنالوجی میں انتہائی چھوٹے ذرات استعمال کیے گئے ہیں جنہیں مرکری ٹیلورائیڈ کولائیڈل کوانٹم ڈاٹس کہا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے ایک کھرب 19ارب روپے کی سبسڈی مانگ لی
یہ ذرات انفراریڈ روشنی کو جذب کرتے ہیں۔۔۔اور پھر اسے ایک خاص او ایل ای ڈی تہہ تک پہنچایا جاتا ہے وہاں انفراریڈ روشنی کو انسانی آنکھ کے لیے قابلِ دید رنگوں میں تبدیل کردیا جاتا ہے۔
لیکن اس عینک کی خاص بات صرف انفراریڈ دیکھنا نہیں۔۔۔بلکہ مختلف انفراریڈ طولِ موج کو مختلف رنگوں میں دکھانا ہےکمزور اور زیادہ طویل طولِ موج والی انفراریڈ روشنی سرخ رنگ میں دکھائی دیتی ہے، جبکہ زیادہ طاقتور اور کم طولِ موج والی انفراریڈ روشنی سرخ اور نیلے سبز رنگ کے امتزاج کی صورت میں نظر آتی ہے۔
یعنی صارف ایک ہی وقت میں عام نظر آنے والی دنیا بھی دیکھ سکتا ہے۔۔۔اور اس کے اوپر چھپی ہوئی انفراریڈ معلومات بھی۔
تجربات کے دوران محققین نے مختلف اشکال اور حرکت کرتی اشیا پر انفراریڈ روشنی ڈالی۔
عینک نے ان شعاعوں کو سرخ اور سرخ و نیلے سبز رنگوں میں تبدیل کرکے عام روشنی کے منظر کے اوپر دکھایا۔اور اس پورے نظام کا وزن صرف 23 گرام ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ اگر انسان انفراریڈ دیکھنے لگے تو فائدہ کیا ہوگا؟
سائنسدانوں کے مطابق یہ ٹیکنالوجی مستقبل میں اگمینٹڈ ریئلٹی، بصری معاون آلات، خطرناک یا نامعلوم مادوں کی شناخت اور خراب یا کم روشنی والے ماحول میں راستہ تلاش کرنے میں استعمال ہوسکتی ہے۔
یعنی اندھیرے یا دھند جیسے مشکل حالات میں ایسی معلومات سامنے آسکتی ہیں جو عام آنکھ سے دکھائی نہیں دیتیں۔






