تہران ( پاک ترک نیوز) کیا ایران اب مزید سخت پالیسی کی طرف جا رہا ہے؟ایران میں بڑی سکیورٹی تبدیلی کر دی گئی ،،محمد باقر ذوالقدر کو اہم ترین عہدے سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری کے طور پر تعینات کر دیا گیا ۔ یہ تقرری ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران کو شدید بیرونی حملوں اور اندرونی دباؤ کا سامنا ہے، جبکہ اس عہدے پر پہلےعلی لاریجانی فائز تھے، جو حالیہ حملے میں شہید ہو گئے تھے ۔
ذوالقدر کی تقرری کی وجہ محض حالیہ جنگ نہیں بلکہ ایک طویل غور و فکر کے بعد کی گئی ہے تاکہ ایسے شخص کو منتخب کیا جا سکے جو داخلی اور خارجی سیکیورٹی چیلنجز سنبھال سکے۔
محمد باقر ذوالقدر کا شمار ایران کے سخت گیر اور تجربہ کار سیکیورٹی رہنماؤں میں ہو تا ہے ،وہ ماضی میں اسلامی انقلابی گارڈ کور کے اعلیٰ کمانڈر رہ چکے ہیں ، ملک کے دفاعی و انٹیلیجنس ڈھانچے میں اہم کردار ادا کر چکے ہیں۔
ملک میں جاری فضائی حملے اور داخلی احتجاج ذوالقدر کے لیے فوری امتحان ہیں۔نئے سکیورٹی چیف کی اہم ترجیحات میں داخلی سیکیورٹی کو مضبوط کرنا ہو گا،ایران میں جاری احتجاج اور عدم استحکام کو کنٹرول کرنا بڑا چیلنج ہوگا۔
نئی تعیناتی کے بعد امریکا اور اسرائیل کے ساتھ بڑھتی کشیدگی کے دوران دفاعی حکمت عملی مزید جارحانہ ہو سکتی ہے۔ایران پہلے ہی خطے میں اپنی عسکری طاقت بڑھا رہا ہے، جسے مزید تیز کیا جا سکتا ہے۔امریکا کے ساتھ مذاکرات میں بھی ذوالقدر کا کردار اہم ہوگا کیونکہ کسی بھی معاہدے کی منظوری کے لیے اِن کی رضامندی ضروری ہوگی۔۔خلیج، لبنان اور مشرق وسطیٰ میں ایران کی پوزیشن مزید مضبوط کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
عالمی رپورٹس کے مطابق ایران کی قیادت اس وقت قومی سیکیورٹی میں مزید عسکری قوت شامل کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور ذوالقدر اس حساس ذمہ داری کو سنبھالنے کے لیے منتخب کیے گئے ۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ محمد باقر ذوالقدر کی تقرری اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ ایران اب دفاعی نہیں بلکہ زیادہ جارحانہ اور سخت سیکیورٹی پالیسی کی طرف بڑھ رہا ہے۔سوال یہ ہے کہ کیا یہ تبدیلی مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کو مزید بڑھائے گی؟












