تہران ( پاک ترک نیوز) ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے رشتہ دار ایرانی مذہبی رہنما محمد باقر خرازی کے ایک بیان نے ہلچل مچا دی ہے۔اور اسکے نتیجے میں ایران کے سیاسی حلقوں میں نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق خرازی نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی اقتدار کے ایوانوں میں اختلافات موجود ہیں اور صدر مسعود پزشکیان اپنامنصب سنبھالنے کے بعد اب تک 28 مرتبہ استعفیٰ دے چکے ہیں یا استعفیٰ دینے کی دھمکی دے چکے ہیں۔ان کے مطابق شہیدسپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے متضاد موجودہ سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے صدر پزشکیان کو واضح اور سخت تنبیہ کی ہے کہ وہ آئندہ ایسی دھمکیوں سے گریز کریں۔
محمد باقر خرازی نے دعویٰ کیا کہ ایران کے سپریم لیڈرمجتبیٰ خامنہ ای نے صدر مسعود پزشکیان کو واضح پیغام بھجوایا ہےکہ اگر انہوں نے دوبارہ استعفیٰ پیش کیا تو اسے قبول کر لیا جائے گا۔خرازی کے مطابق یہ پیغام باضابطہ طور پر حکومتی عہدیداروں تک بھی پہنچایا گیاہے۔ جس کے بعد صدر پزشکیان اور حکومت کے متعدد اعلیٰ حکام نے استعفیٰ دینے یا اس کی دھمکی دینے سے پیچھے ہٹنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سپارکو کا 50 ہزار روپے تک ماہانہ وظیفے کے ساتھ انٹرن شپ پروگرام کا اعلان
خرازی کا کہنا تھا کہ اس سخت پیغام کے بعد حکومت کے اندر استعفے کی دھمکیوں کا سلسلہ رک گیا ہے۔ حکام نے اپنے مؤقف میں نرمی اختیار کی ہے اوراب استعفے کی بات کرنا چھوڑ دی ہے۔
محمد باقر خرازی نے اقتدار کے اہم مراکز میں ممکنہ ردوبدل کا بھی دعویٰ کیا۔ ان کے مطابق ایران کے مرشد اعلیٰ مجتبیٰخامنہ ای اعلیٰ قومی سلامتی کونسل اور ایرانی مذاکراتی ٹیم میں تبدیلیاں کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری محمد باقر ذوالقدر کو عہدے سے ہٹانے اور ان کی جگہ سپریم لیڈر کے فوجی مشیر محسن رضائی کو تعینات کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ وزیر خارجہ عباس عراقچی کو بھی آئندہ مذاکراتی عمل سے الگ رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
دوسری جانب محمد باقر خرازی کے بیانات پر ایران کے سیاسی اور میڈیا حلقوں میں شدید ردِعمل سامنے آیا ہے۔ معروف صحافی اور سیاسی کارکن احمد زید آبادی نے سرکاری اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ خرازی کے دعوؤں کی حقیقت پر فوری وضاحت کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں ایسے بیانات سیاسی کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔زید آبادی نے خبردار کیا کہ اگر ان دعوؤں پر بروقت سرکاری وضاحت نہ دی گئی تو ان کے وسیع پیمانے پر پھیلنے سے ایک نیا سیاسی بحران جنم لے سکتا ہے۔












