تہران ( پاک ترک نیوز) ایرانی فضائیہ کے ڈپٹی کوآرڈینیٹر بریگیڈیئر جنرل مسعود جعفری نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے امریکی فوجی اڈوں پر جوابی حملوں کی منصوبہ بندی کئی برس قبل ہی مکمل کرلی تھی اور امریکی اڈوں کی تعمیرات، نقل و حرکت اور دفاعی انتظامات پر مسلسل نظر رکھی جا رہی تھی۔
ایرانی میڈیا کے مطابق بریگیڈیئر جنرل مسعود جعفری نے کہا کہ امریکی فوج کے پاس جدید ٹیکنالوجی، جدید فضائی دفاعی نظام اور جدید جنگی طیارے موجود ہونے کے باوجود ایرانی فضائیہ کے پائلٹس نے غیر معمولی بہادری کا مظاہرہ کیا اور امریکی فوجی اڈوں کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔
ایرانی جنرل کے مطابق ایرانی فضائیہ کے طیاروں نے شیراز فضائی اڈے سے پرواز کرکے امریکی سینٹرل کمانڈ کے مرکز کو نشانہ بنایا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ یہ کارروائی عالمی سمت معلوم کرنے والے نظام اور اندرونی سمت یابی نظام کے بغیر مکمل کی گئی، جس پر امریکا اور اس کے اتحادی حیران رہ گئے۔
بریگیڈیئر جنرل مسعود جعفری نے دعویٰ کیا کہ امریکا یہ تصور بھی نہیں کرسکتا تھا کہ تیسری نسل کے جنگی طیارے اس کے جدید فضائی دفاعی نظاموں کے قریب پہنچ کر کارروائی کرسکتے ہیں۔ ان کے مطابق ایرانی فضائیہ کی کامیابی کا ایک اہم سبب یہی حکمت عملی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی جنرل ڈین کین کا ٹرمپ کو ایران جنگ ختم کرنے کا مشورہ
انہوں نے بتایا کہ ایرانی پائلٹس کو دشمن کے جدید فضائی دفاعی نظام، فضائی گشت اور ممکنہ خطرات سے مکمل آگاہی حاصل تھی۔ خطرات کے باوجود ایرانی پائلٹس نے انتہائی کم بلندی پر پرواز کرتے ہوئے قطر اور کویت میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔
ایرانی فضائیہ کے ڈپٹی کوآرڈینیٹر کے مطابق امریکی فوجی اڈوں پر کئی برس سے گہری نظر رکھی جا رہی تھی اور ان کے خلاف ممکنہ کارروائی کے لیے منصوبہ بندی اور تیاری بہت پہلے مکمل کرلی گئی تھی۔












