لاہور( پاک ترک نیوز) جہاں کبھی قیدی سلاخوں کے پیچھے زندگی گزارتے تھے، آج وہاں سیاح لاکھوں روپے خرچ کرکے عیش و آرام سے رات گزار رہے ہیں
جاپان میں 118 سال پرانی تاریخی جیل کو ایسا لگژری ہوٹل بنا دیا گیا ہے کہ دنیا بھر کے سیاح اسے دیکھنے کے لیے بے تاب ہیں۔
جاپان کے شہر نارا میں واقع یہ تاریخی جیل 1908 میں تعمیر ہوئی تھی اور تقریباً ایک صدی تک نوجوان قیدیوں کے لیے استعمال ہوتی رہی۔
2017 میں جیل بند ہوئی تو کسی نے شاید سوچا بھی نہ ہوگا کہ یہی عمارت ایک دن لگژری ہوٹل بن جائے گی۔لیکن اب یہاں قیدی نہیں،مہمان آتے ہیں سابق جیل کو ہوشینویا نارا پرزن کے نام سے لگژری ہوٹل میں تبدیل کردیا گیا ہے۔ سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ عمارت کی تاریخی شناخت اور جیل کا اصل طرزِ تعمیر بڑی حد تک برقرار رکھا گیا ہے۔
تقریباً 500 سابق جیل سیلز کو تبدیل کرکے 48 لگژری سوئٹس، ریسٹورنٹ اور دیگر سہولیات تیار کی گئی ہیں۔اب انہی سابق سیلز میں لاؤنج، ڈائننگ ایریا، کافی اسٹیشن، منی بار، واک اِن کلوزٹ، جدید باتھ روم اور آرام دہ بیڈ روم موجود ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا کا سب سے زیادہ قرض کس کے پاس؟
کچھ کمروں میں پرانے زمانے کے سی ڈی اور کیسٹ پلیئر بھی رکھے گئے ہیں، جبکہ مہمانوں کو جاپانی دستکاری کی اشیا بھی تحفے میں دی جاتی ہیں۔ اور اب آتے ہیں سب سے اہم سوال کی طرف…اس جیل میں ایک رات کا کرایہ کتنا ہے؟کمرے کی نوعیت کے مطابق ایک رات کا کرایہ تقریباً 317 سے 1,114 امریکی ڈالر تک ہے۔
یعنی پاکستانی کرنسی میں یہ رقم تقریباً 90 ہزار سے 3 لاکھ روپے سے زائد بنتی ہے، جبکہ خصوصی سوئٹس کے لیے قیمت مزید مختلف ہوسکتی ہے۔مہمانوں کے لیے 9، 10 اور 11 سابق جیل سیلز پر مشتمل مختلف سوئٹس بھی دستیاب ہیں۔
لیکن اس ہوٹل کا مقصد صرف کاروبار نہیں…صدی سے زائد پرانی اس تاریخی عمارت کی دیکھ بھال پر بھاری اخراجات آتے ہیں، اسی لیے اسے ہوٹل میں تبدیل کرنے کا ایک مقصد ثقافتی ورثے کو محفوظ رکھنا اور اس کی دیکھ بھال کے اخراجات پورے کرنا بھی ہے۔












