اسلام آباد(پاک ترک نیوز ) وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت پمز آتشزدگی واقعے سے متعلق اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا، جس میں تحقیقاتی کمیٹی کی عبوری رپورٹ وزیراعظم کو پیش کی گئی۔
وزیراعظم نے رپورٹ میں نشاندہی کیے گئے 8 ذمہ داران کو فوری معطل کرکے ان کے خلاف محکمانہ اور فوجداری قوانین کے تحت کارروائی کی منظوری دے دی۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ مجرمانہ غفلت کے مرتکب افراد کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے اور انہیں کسی قسم کی رعایت نہ دی جائے۔
معطل کیے جانے والوں میں پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر عمران سکندر، جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹرز ڈاکٹر مطاہر شاہ اور ڈاکٹر اویس علی شاہ، نیونیٹل ڈیپارٹمنٹ کی سربراہ پروفیسر ڈاکٹر سعدیہ ریاض، سینئر رجسٹرار ڈاکٹر نغم، ڈاکٹر نوشیلہ امجد، اسسٹنٹ ڈائریکٹر سیکیورٹی پمز محمد عثمان اور سی ڈی اے ایمرجنسی سروسز کے ڈی جی ڈاکٹر عبدالرحمن شامل ہیں۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ پمز میں آتشزدگی یا ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تفصیلی ایس او پیز اور تربیت موجود نہیں تھی۔ ہسپتال کے 13 ایس او پیز میں صرف دو ذیلی سیکشنز میں آگ یا ہنگامی صورتحال کا ذکر پایا گیا۔
تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق واقعے کے وقت سپروائزری اسٹاف ڈیوٹی پر موجود نہیں تھا، جبکہ وارڈ میں دو نرسیں، ایک خاتون سیکیورٹی گارڈ اور ہاؤس آفیسر موجود تھے۔ آگ لگنے اور پورا وارڈ جلنے میں صرف دو منٹ لگے۔
یہ بھی پڑھیں : وزیراعظم شہباز شریف کا احکامات پر عملدرآمد میں غفلت کا سخت نوٹس
رپورٹ میں انکشاف ہوا کہ آگ لگنے کے 6 منٹ بعد ایمرجنسی سروسز کو کال کی گئی، جبکہ پہلا ایمرجنسی رسپانس 15 منٹ بعد پہنچا۔ نیونیٹل وارڈ میں فائر الارم اور سپرنکلر سسٹم بھی موجود نہیں تھا، جبکہ ڈبلیو ایچ او کے حفاظتی قواعد کی خلاف ورزیوں کی نشاندہی بھی کی گئی۔
وزیراعظم نے اپنی جان کی پروا کیے بغیر بچے کو بچانے والی نرس کے لیے ستارۂ خدمت دینے کی منظوری دے دی، جبکہ وارڈ میں موجود ایک نرس اور خاتون گارڈ کو او ایس ڈی بنا کر مزید تحقیقات کی ہدایت کی گئی۔
وزیراعظم نے ڈاکٹر محمد سلمان، سی ای او نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ، کو پمز کا قائم مقام ایگزیکٹو ڈائریکٹر مقرر کرنے اور ہٹائے گئے افسران کی جگہ نئے افسران کی فوری تعیناتی کی ہدایت بھی کی۔
وزیراعظم نے سیکیورٹی پر مامور نجی کمپنی اور اس کے عہدیداران کے خلاف بھی کارروائی کی منظوری دے دی۔ انہوں نے تحقیقاتی کمیٹی کی عبوری رپورٹ فوری طور پر عوام کے سامنے لانے کی ہدایت کرتے ہوئے مزید تفصیلی تحقیقات مکمل کرنے کا حکم دیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ معصوم بچوں کی موت ایک اندوہناک واقعہ ہے جس پر پوری قوم غمگین ہے، واقعے کے ذمہ داران کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا اور مثالی سزا دلوائی جائے گی تاکہ آئندہ کسی ماں کا لختِ جگر مجرمانہ غفلت کے باعث جدا نہ ہو۔












