ٹوکیو(پاک ترک نیوز )جاپان نے اپنے خودمختار سیٹلائٹ نیویگیشن نیٹ ورک کوازی زینتھ سیٹلائٹ سسٹم، کیو زیڈ ایس ایس کی توسیع میں اہم سنگِ میل حاصل کرلیا ۔ جاپان نے یہ نظام ملک کے ان علاقوں میں پوزیشننگ کی درستگی بہتر بنانے کے لیے تیار کیا جہاں پہاڑی علاقوں اور بلند و گنجان عمارتوں کے باعث عام جی پی ایس سگنلز متاثر ہوتے ہیں۔
جاپانی حکام کے مطابق کیو زیڈ ایس ایس، جی پی ایس کے ساتھ مل کر کام کرتا ہے اور اس کا مقصد جاپان کے اوپر تقریباً مسلسل کسی نیویگیشن سیٹلائٹ کی موجودگی یقینی بنانا ہے۔
جاپان کے جزائر تقریباً 20 سے 45 ڈگری شمالی عرضِ بلد تک پھیلے ہوئے ہیں، جس کے باعث ایک جیو اسٹیشنری سیٹلائٹ کے ذریعے پورے ملک کو مؤثر کوریج دینا ممکن نہیں۔
اسی لیے کیو زیڈ ایس ایس کے سیٹلائٹس مائل جیو اسٹیشنری مدار میں گردش کرتے ہیں اور زمین سے دیکھنے پر ان کا راستہ ہندسہ آٹھ جیسی شکل اختیار کرتا ہے۔
اس نیٹ ورک کے نئے سیٹلائٹ مچی بیکی نمبر 7، یا کیو زیڈ ایس 7 نے منگل کو ایچ تھری راکٹ کے ذریعے کامیابی سے مطلوبہ مدار حاصل کرلیا۔
یہ سیٹلائٹس شمالی نصف کرۂ ارض کے اوپر زیادہ وقت گزارتے ہیں، جس کے باعث جاپان کے مختلف علاقوں میں بلند زاویے سے نیویگیشن سگنلز دستیاب رہتے ہیں۔ اسی خصوصیت کی وجہ سے اسے ’’کوازی زینتھ‘‘ یعنی تقریباً عمودی سمت میں موجود سیٹلائٹ کا نام دیا گیا۔
کیو زیڈ ایس 7 کو جاپان کی خلائی تحقیقاتی ایجنسی جاکسا کے جدید ایچ تھری راکٹ کے ذریعے خلا میں بھیجا گیا۔ یہ ایچ تھری راکٹ کا نواں مشن تھا، تاہم اس کی سابقہ تاریخ مکمل طور پر کامیاب نہیں رہی۔
اس سے قبل دسمبر 2025 میں گوند سے متعلق خرابی کے باعث کیو زیڈ ایس 5 نامی نیویگیشن سیٹلائٹ کو مدار میں پہنچانے کی کوشش ناکام ہوگئی تھی۔
جاپان نے پہلا تجرباتی کیو زیڈ ایس ایس سیٹلائٹ 2010 میں خلا میں بھیجا تھا، جس کے بعد 2017 سے 2021 کے دوران مزید چار سیٹلائٹس لانچ کیے گئے۔
جاپانی حکومت نے بعد میں نیٹ ورک کو چار سے بڑھا کر سات سیٹلائٹس تک توسیع دینے کا فیصلہ کیا۔ کیو زیڈ ایس 6 فروری 2025 میں کامیابی سے لانچ کیا گیا، جبکہ کیو زیڈ ایس 7 کی حالیہ کامیاب لانچ نے اس منصوبے کو مزید آگے بڑھا دیا ہے۔
جاپانی حکام کے مطابق 2030 کی دہائی میں مزید تین سیٹلائٹس لانچ کرنے کا منصوبہ ہے، تاہم ناکام ہونے والے کیو زیڈ ایس 5 کے متبادل کے بارے میں ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔












