اسلام آباد ( پاک ترک نیوز) طالبان رجیم کی بڑھتی عالمی سفارتی تنہائی،افغانستان کیلئے امدادی فنڈز میں ریکارڈ کمی ہو گئی ،طالبان رجیم کی انتہا پسندانہ پالیسیوں کے باعث افغانستان ہرگزرتے دن کے ساتھ سفارتی تنہائی کا شکارہورہا ہے۔قابض طالبان رجیم کی انتہاپسندانہ پالیسیوں کی قیمت افغان عوام سنگین انسانی بحران کی صورت میں ادا کررہے ہیں۔
نارویجن ریفیوجی کونسل کی رپورٹ کے مطابق افغانستان کیلئے امدادی فنڈنگ ریکارڈ کم سطح پر ہے اور ضرورت کے ہر6 ڈالرزمیں سے صرف ایک ڈالر دستیاب ہے۔امریکا جو پہلے افغانستان کی مجموعی امداد کا 40 فیصد فراہم کرتا تھا، اب اپنی تمام مالی امداد بند کرچکا ہے۔
رپورٹ کے مطابق افغانستان پہلی بارپناہ گزین کونسل کی شائع کردہ دنیا کے نظرانداز شدہ بحرانوں کی لسٹ میں شامل ہوگیا،افغانستان انٹرنیشنل نے رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان اب دنیا کے سب سے کم فنڈنگ حاصل کرنے والے انسانی بحرانوں میں شامل ہو چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: افغانستان میں دہشت گردوں کے خلاف ٹارگٹڈ کارروائیوں سے متعلق بھارتی بیان مسترد
افغان امور کے جرمن مبصرتھامس رُٹیگ کے مطابق جب تک طالبان تمام افغانوں کے انسانی حقوق کا عملی احترام ثابت نہیں کرتے، انہیں سفارتی طورپرتسلیم نہیں کیا جانا چاہیئے۔انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں،دہشت گردی اورمنشیات فروشی کی سرپرستی نے افغان طالبان کودنیا کیلئے ناقابل قبول بنادیا ہے۔












