کابل ( پاک ترک نیوز) جرمنی سمیت یورپ کے مختلف ممالک میں سنگین جرائم میں ملوث افغان شہریوں کے خلاف کارروائیوں اور ملک بدری کا سلسلہ تیز ہوگیا ہے۔جرمن وزارت داخلہ کے مطابق مزید 23 افغان باشندوں کو لیپزگ سے چارٹر پرواز کے ذریعے کابل ڈی پورٹ کردیا گیا۔ وزارت داخلہ کے مطابق ڈی پورٹ کیے گئے افراد کی اکثریت سنگین جرائم میں ملوث اور سزا یافتہ تھی۔
جرمن وزیر داخلہ الیگزینڈر ڈوبرنٹ نے اپنے حالیہ بیان میں کہا ہے کہ مستقبل میں صرف سزا یافتہ مجرموں ہی نہیں بلکہ ان افراد کو بھی ملک بدر کیا جائے گا جنہیں جرمنی چھوڑنے کا حکم دیا جاچکا ہے۔اس سے قبل 28 جولائی 2026 کو بھی جرمنی نے 31 افغان شہریوں کو افغانستان ڈی پورٹ کیا تھا۔افغان نیوز ایجنسی خامہ پریس کے مطابق طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد جرمنی اب تک 257 افغان شہریوں کو افغانستان واپس بھیج چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاک افغان تناؤ کا حل
جرمنی اور دیگر یورپی ممالک میں منشیات، انسانی اسمگلنگ اور دیگر سنگین جرائم میں ملوث غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف کریک ڈاؤن میں تیزی دیکھی جارہی ہے۔مختلف ممالک کی جانب سے مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث افراد کی ملک بدری کے اقدامات نے تارکین وطن سے متعلق سیکیورٹی اور امیگریشن پالیسیوں کو ایک بار پھر عالمی بحث کا موضوع بنا دیا ہے۔












