بیجنگ (پاک ترک نیوز)
ہوا بازی کی دنیا میں ایک ایسا انقلاب آ گیا ہے جو ٹرانسپورٹ کے مستقبل کو بدل سکتا ہے۔ چین نے دنیا کی پہلی 5 ٹن وزنی، 10 سیٹوں والی الیکٹرک ٹیکسی کو کامیابی سے فضا میں اڑا کر سب کو حیران کر دیا ہے۔ یہ ایک ایسی “اسکائی بس” جو روایتی ایئر ٹیکسی کے تصور کو پیچھے چھوڑ چکی ہے۔
جہاں یورپ اور امریکہ کی کمپنیاں چھوٹے 4 سے 6 نشستوں والے ایئر ٹیکسی ماڈلز پر کام کر رہی تھیں، وہیں چین نے سیدھی ہیوی ویٹ کلاس میں چھلانگ لگا دی۔ یہ ایئر ٹیکسی صرف عمودی ٹیک آف ہی نہیں کرتی بلکہ مکمل اسٹیبل ٹرانزیشن کے ساتھ جہاز کی طرح کروز فلائٹ بھی کرتی ہے اور پھر عمودی لینڈنگ بھی۔
ایک مکمل الیکٹرک رینج 250 کلومیٹر، جبکہ ہائبرڈ ورژن 1500 کلومیٹر تک پرواز کر سکتا ہے۔ یعنی اب شہر سے شہر کا سفر بغیر ایئرپورٹ، بغیر رن وے، سیدھا فضاء کے راستے۔
اس کا ڈیزائن کسی فلائنگ کار جیسا نہیں بلکہ ایک فلائنگ کمپیوٹر جیسا ہے۔ بیس کے قریب موٹرز، اسمارٹ پاور ڈسٹری بیوشن، اور ایسا فلائٹ کنٹرول سسٹم جو 5 ٹن وزن کو ہوا میں متوازن رکھتا ہے۔ اگر ایک موٹر بند بھی ہو جائے تو فلائٹ جاری رہتی ہے. یہی مستقبل کی ایوی ایشن ہے۔ یہ کامیابی صرف ایک طیارے کی نہیں۔ یہ عالمی مقابلے کا نیا اعلان ہے۔ اب سوال یہ ہے: کیا یہ اسکائی بس مسافروں کو لے جائے گی یا پہلے کارگو دنیا کو بدل دے گی؟ کیا آنے والے وقت میں ہائی ویز خالی اور فضائیں مصروف ہوں گی؟ فضائی ٹرانسپورٹ کا نیا دور شروع ہو چکا ہے اور دنیا اس نظارے کو دیکھ رہی ہے۔












