بیجنگ ( پاک ترک نیوز) چین نے ممکنہ فوجی کارروائیوں کی تیاری کے لیے امریکی جنگی جہازوں، بحری اڈوں، لڑاکا طیاروں اور تائیوان کی اہم سرکاری عمارتوں کی مکمل سائز کی نقول تیار کر لی ہیں۔ یہ انکشاف حالیہ سیٹلائٹ تصاویر کے تجزیے میں سامنے آیا ہے۔
برطانوی اخبار دی ٹیلی گراف کی رپورٹ کے مطابق چین ان نقول کو طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں، ہائپرسونک ہتھیاروں اور مصنوعی ذہانت پر مبنی فوجی نظاموں کی آزمائش اور مشقوں کے لیے استعمال کر رہا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چین نے تائیوان کے صدارتی محل، وزارت خارجہ، عدالتی عمارتوں اور دارالحکومت تائی پے کے حساس حکومتی علاقے کی بھی نقول تعمیر کی ہیں، جہاں چینی فوج شہری علاقوں میں کارروائی اور اہم سرکاری مراکز پر قبضے کی مشق کرتی ہے۔
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق ان نقول کی درستگی ظاہر کرتی ہے کہ چین مخصوص ممکنہ اہداف کے خلاف عملی تیاری کر رہا ہے، نہ کہ صرف عمومی فوجی مشقیں۔
رپورٹ کے مطابق چین نے جاپان میں واقع امریکی بحریہ کے اہم یوکوسوکا نیول بیس کی بھی نقل تیار کی ہے، جہاں امریکی بحریہ کے کئی جنگی جہاز مستقل تعینات رہتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تائیوان پر کسی ممکنہ چینی حملے کی صورت میں یہ اڈہ امریکی فوجی کارروائی کا اہم مرکز ہوگا، اسی لیے چین وہاں حملوں کی مشق کر رہا ہے۔
اسی طرح تائیوان کے مشرقی ساحل پر واقع سو آؤ نیول بیس اور امریکی کِڈ کلاس ڈسٹرائر کے ماڈل بھی بنائے گئے، جنہیں مختلف میزائل تجربات میں نشانہ بنایا گیا۔ سیٹلائٹ تصاویر میں ان ماڈلز پر حملوں کے نشانات بھی دیکھے گئے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چین ممکنہ طور پر YJ-21 اور YJ-17 ہائپرسونک اینٹی شپ میزائلوں اور DF-27 بیلسٹک میزائل سمیت جدید ہتھیاروں کی صلاحیت جانچنے کے لیے ان اہداف کا استعمال کر رہا ہے۔
چین نے تائیوان کے شہر تائی چونگ کے ایک اہم فضائی اڈے کی نقل بھی تعمیر کر رکھی ہے، جہاں فضائی حملوں اور بمباری کی مشقیں کی جاتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایران ،امریکہ کے درمیان ثالثوں کے ذریعے تبادلہ جاری ہے ،اسماعیل بقائی
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ ان فوجی مشقوں کا مقصد صرف جنگی تیاری نہیں بلکہ امریکا، جاپان اور تائیوان کو یہ پیغام دینا بھی ہے کہ چین خطے میں کسی بھی ممکنہ تنازع کے لیے اپنی عسکری صلاحیتوں کو مسلسل مضبوط بنا رہا ہے۔
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے بھی حالیہ بیان میں چین کی تیزی سے بڑھتی ہوئی فوجی سرگرمیوں اور عسکری توسیع پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔












