بیجنگ(پاک ترک نیوز) چین نے کہا ہےکہ امریکہ نے دو طرفہ تجارتی بات چیت کے دوران چینی اشیاء پر عائد متبادل محصولات کو 20 فیصد تکمحدود رکھنے کا وعدہ کر رکھا ہے۔
چین کی وزارت تجارت نے پیر کی شام جاری ہونے والے بیان میںکہا ہےکہ چین واشنگٹن کی جانب سے مبینہ طور پر جبری مشقت سے منسلک درآمدات کے بارے میں سیکشن 301 کی تحقیقات کے تحت حتمی اقدامات کے اعلان میں چین پر مزید متبادل ٹیرف کے نفاذ کو مسترد کرتا ہے۔ کیونکہ چینی مصنوعات پر12.5 فیصد کی شرح سے امریکی متبادل ٹیرف پہلے سے لاگو ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چین نے امریکی جنگی جہازوں، طیاروں اور تائیوانی عمارتوں کی نقول کیوں بنائیں؟
امریکی تجارتی نمائندے کے دفتر نے 23 جولائی کو ان اقدامات کا اعلان کیا۔ جس میں 60 معیشتوں کی اشیا پر اضافی محصولات عائد کیے گئے۔ جن میں چینی درآمدات پر 12.5 فیصد ٹیرف بھی شامل ہے۔
بیجنگ نے اس فیصلے کی سختی سے مخالفت کرتے ہوئے تحقیقات اور محصولات کو یکطرفہ اور تحفظ پسندی کی کارروائیوں سے تعبیر کیا ہے۔
چینی وزارت نے کہا ہے کہ واشنگٹن نے بار بار اشارہ کیا ہے کہ سیکشن 301 ٹیرف پہلے سے نافذ بین الاقوامی ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ یا IEEPA کے تحت عائد کردہ ڈیوٹیوںکے ساتھ سیکشن 122 درآمدی سرچارجکے خاتمےکے بعد عائد ہوگا۔چین کی جانب سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکی فریق نے چین-امریکہ اقتصادی اور تجارتی مشاورت کے دوران واضح طور پر عہد کیا کہ چینی اشیاء پر اضافی محصولات 20 فیصد سے زیادہ نہیں ہوں گے۔مگر اب اس وعدے کی پاسداری نہیں کی جا رہی۔ مزید براںادویاتی نمک فینٹینیل اور نام نہاد باہمی محصولات سے متعلق امریکی محصولات کے پہلے دور کے خلاف اس کے انسدادی اقدامات بدستور نافذ العمل ہیں۔












