بیجنگ ( پاک ترک نیوز) ناظرین، چین نے صاف اور تقریباً لامحدود توانائی کے حصول کی جانب ایک اور اہم سنگ میل عبور کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ چینی سائنس دانوں نے دنیا کے سب سے بڑے 582 ٹن وزنی فیوژن میگنیٹ کا کامیاب تجربہ مکمل کر لیا، جسے مستقبل میں نیوکلیئر فیوژن ری ایکٹرز کی ترقی کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ جدید سپر کنڈکٹنگ میگنیٹ تقریباً 21 میٹر لمبا اور 12 میٹر چوڑا ہے۔ اس کا بنیادی مقصد انتہائی طاقتور مقناطیسی میدان پیدا کرنا ہے، جو کروڑوں ڈگری سینٹی گریڈ تک گرم پلازما کو قابو میں رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ یہی وہ ٹیکنالوجی ہے جس کے ذریعے سورج کی طرح توانائی پیدا کرنے کے عمل، یعنی نیوکلیئر فیوژن، کو زمین پر ممکن بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چین کے قریب سے امریکی جدید جنگی بحری بیڑا مشرقِ وسطیٰ منتقل
چینی حکام کا کہنا ہے کہ اس منصوبے میں استعمال ہونے والے بیشتر پرزے اور ٹیکنالوجی مقامی سطح پر تیار کیے گئے ہیں، جو سائنسی خودکفالت کی جانب ایک اہم قدم تصور کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر فیوژن ٹیکنالوجی تجارتی سطح پر کامیاب ہو جاتی ہے تو یہ مستقبل میں ماحول دوست، محفوظ اور کم لاگت توانائی فراہم کرنے کا مؤثر ذریعہ بن سکتی ہے۔
سائنسی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگرچہ اسے عام طور پر "مصنوعی سورج” کہا جا رہا ہے، تاہم یہ درحقیقت سورج نہیں بلکہ سورج میں ہونے والے فیوژن کے عمل کو محفوظ انداز میں زمین پر دہرانے کی ایک کوشش ہے۔ اس میدان میں ابھی مزید تحقیق اور کئی برسوں کی آزمائش درکار ہے، لیکن چین کی یہ پیش رفت عالمی سطح پر توانائی کی نئی ٹیکنالوجیز کی دوڑ میں ایک اہم سنگِ میل سمجھی جا رہی ہے۔












