بیجنگ (پاک ترک نیوز) چین نے ایران کے ساتھ کے ساتھ کاروبار جاری رکھنے والےملکوں کے لیے انتباہات میں اضافے کے امریکی اعلان کو پس پشت ڈالتے ہوئے تہران کے ساتھ اپنے اقتصادی تعلقات کے تحفظ کا عزم ظاہر کیا ہے۔بیجنگ میں وزارت خارجہ کے ترجمان لن جیان نے منگل کے روز نامہ نگاروں کو بتایا کہ "ایران کے ساتھ چین کا تعاون بین الاقوامی قانون کےمطابق کیا جاتا ہے اور اس میں خلل نہیں ڈالا جانا چاہیے۔
یہ پیش رفت واشنگٹن کی جانب سے پیر کو شروع کیے گئے "آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ کے بعد پیدا ہوئی ہے۔ جس کے بارے میں امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کا دعویٰ ہے کہ اس مہم کا مقصد ایران کو عالمی مالیاتی نظام سے مکمل طور پر الگ تھلگ کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ جو لوگ اس "ایکو سسٹم (نظام) کے اندر کام کر رہے ہیں جو ایرانی تیل کو رقم میں تبدیل کرتا ہے”، وہ اس صورتحال کے لیے "خود ہی ذمہ دار ہوں گے”۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا چینی بینکوں کو بھی نئی پابندیوں کا نشانہ بنایا جائے گا، تو انہوں نے زور دے کر کہا کہ نئی امریکی کارروائیوں کی زد سے "کوئی بھی محفوظ نہیں ہے”۔
یہ بھی پڑھیں: اسپیس ایکس کا فالکن نائن راکٹ100ویں پرواز کیلئے تیار
دوسری جانب چینی ترجمان نے خبردار کیا کہ نئی امریکی پابندیاں وسیع تر عالمی معیشت پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہیں اور انہوں نے فریقین پر زور دیا کہ وہ تنازع کے خاتمے کے لیے مذاکرات کی میز پر واپس آئیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ "اقتصادی جنگیں اور زیادہ سے زیادہ دباؤ مسئلے کا حل نہیں ہیں۔لن نے بیجنگ کے اس مؤقف کا اعادہ کیا کہ وہ "غیر قانونی اور یکطرفہ پابندیوں کی سختی سے مخالفت کرتا ہے جن کی نہ تو بین الاقوامی قانون میں کوئی بنیاد ہے اور نہ ہی انہیں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی منظوری حاصل ہے۔”
انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ چین جواب دینے کے لیے تیار ہے۔ لن نے کہا کہ "چین اپنے حقوق اور مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرے گا۔”












