اسلام آباد (پاک ترک نیوز )بانی پی ٹی آئی کی صحت اور علاج سے متعلق پی ٹی آئی کی قرارداد کی تحریک سینیٹ میں پیش کردی گئی، تاہم پریزائیڈنگ افسر نے قرار دیا کہ معاملہ عدالتی نوعیت کا ہے، اس پر پوائنٹ آف آرڈر ہوسکتا ہے، قرارداد نہیں۔
سینیٹر علی ظفر نے کہا کہ عدالتی حکم کے باوجود بانی پی ٹی آئی کو اسپتال منتقل نہیں کیا گیا اور نہ ہی میڈیکل بورڈ تشکیل دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ کوئی بھی حکومت سپریم کورٹ کے حکم پر عملدرآمد سے انکار نہیں کرسکتی۔ حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے علی ظفر نے کہا کہ آپ کی بانی پی ٹی آئی سے مخالفت اپنی جگہ، لیکن ان کی صحت پر سیاست نہ کی جائے۔
علی ظفر کا کہنا تھا کہ آج حکومت آپ کی ہے، کل کسی اور کی ہوسکتی ہے، آئین سب کے لیے ہے۔ حکومت اگر سپریم کورٹ کے حکم پر عملدرآمد نہیں کرے گی تو اسے سزا بھی ہوسکتی ہے۔
پریزائیڈنگ افسر شہادت اعوان نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ عدالتی معاملہ ہے، اس پر پوائنٹ آف آرڈر ہوسکتا ہے، تاہم قرارداد پیش نہیں کی جاسکتی۔
اس موقع پر سینیٹر اعظم سواتی نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جب کسی کو فائدہ دینا ہوتا ہے تو عدالتی معاملات میں بھی ریلیف دے دیا جاتا ہے۔
اعظم سواتی نے کہا کہ نواز شریف کو ریلیف دینے کے لیے اداروں کو اسلام آباد ایئرپورٹ بھیج دیا گیا تھا، لیکن بانی پی ٹی آئی کی صحت کے معاملے پر عدالتی احکامات پر عمل نہیں کیا جا رہا۔












